غزہ جنگ عالمی امن کے لیے خطرہ، فوری جنگ بندی کرائی جائے:شہزادہ فیصل بن فرحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ فلسطین میں ہونے والے المناک واقعات جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

مصر میں امن سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کے لیے محفوظ انسانی راہداریوں کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کا پابند بنائے۔

سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ"ہمیں امید ہے کہ یہ سربراہ اجلاس اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فیصلہ کن کارروائی میں حصہ ڈالے گا۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک اسٹریٹجک آپشن کے طور پر ان کے بنیادی حقوق کے حصول کی حمایت جاری رکھیں گے۔

سعودی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ "ہم سلامتی کونسل کی جانب سے بحران پر اب تک کوئی موقف اختیار کرنے میں ناکامی پر سخت مایوس ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی جانب سے محاصرہ ختم کرنے اور فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالے اور بے گناہ جانوں کا مزید ضیاع بند کرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی جنگ علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم غزہ کی پٹی میں جو خطرناک پیش رفت دیکھ رہے ہیں اس کے بارے میں علاقائی اور بین الاقوامی رابطہ اور مشاورت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے مصری صدر السیسی اور حکومت کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 4,385 فلسطینی شہری شہید اور 13,651 زخمی ہوچکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 1,756 بچے اور 976 خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں