فلسطینیوں کی حمایت میں تصویر اور تبصرے نے مشہور ماحولیاتی کارکن کو مشکل میں ڈال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سویڈن کی نوجوان ماحولیاتی کارکن کو سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کرنے اورغزہ جنگ کے حوالے سے تبصرہ کرنے پر اسرائیل میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کا نام ایکس پلیٹ فار سابقہ’ ٹویٹر‘ پر پر محل نزاع بنا ہوا ہے۔

گذشتہ دو دنوں کے دوران X پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر) کے اپنے اکاؤنٹ پردو تصاویر شائع کرنے کے بعد انہیں کہیں تنقید اور کہیں تحسین کا سامنا ہے۔ ایک تصویر میں اسے کارکنوں کے ایک گروپ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جس کے پاس بینر ہے کہ "ہم غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں"۔

اس تصویرنے اسرائیل کے حامیوں کو مشتعل کردیا۔

جب کہ دوسری تصویر میں ایک آکٹوپس کو دکھایا گیا ہے جس کے اوپر اسرائیل کا نشان ہے اور وہ گلوب پر کھڑی دیکھی جا سکتی ہے۔

اس تبصرے اور تصویر پر ان کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا۔ تنقید کرنے والوں نے گریٹا تھنبرگ کے خلاف یہود دشمنی کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

"داعش دہشت گرد"!

جب کہ اسرائیلی فوج کی ترجمان آریہ شالیکر نے اسے "داعش" کے طور پر بیان کیا۔ اس نے کہا کہ"گریٹا سے منسلک کوئی بھی شخص ان کی نظر میں دہشت گردی کا حامی ہے۔"

اسرائیل کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کی اس ناراضگی کے پیش نظر نوجوان خاتون نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کی تصویر کو مدنظر رکھتے ہوئے آکٹوپس کی تصویر کو حذف کر دیا۔

لیکن اس نے غزہ کی شبیہ کو محفوظ رکھا۔اس نے اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے اور حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کو مسترد کیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ’’یہ کہے بغیر کہ میں حماس کے ہولناک حملوں کے خلاف ہوں۔ دنیا کو اپنی آواز بلند کرنے اور فلسطینیوں اور تمام متاثرہ شہریوں کے لیے فوری جنگ بندی اور انصاف اور آزادی کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں