اسرائیل کا غزہ میں ایک ہسپتال کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم، ،مسافر بس پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان آج اتوار کو کشیدگی کا ایک نیا دن دیکھا جا رہا ہے۔غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ شدید بمباری کے نتیجے میں مزید سیکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں حماس سے وابستہ وزارت داخلہ نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کے جنوب میں ایک مسافر بس پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں بس میں سوار متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں سڑک پر چلتی بس کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ مسلسل تئیس روز سے جاری بمباری میں ٹھ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطینی ہلال احمر نےبتایا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے ایک بڑے ہسپتال ’القدس کمپلیکس‘ کو فوری طورپر خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔

فیس بک پرہلال احمر ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "صبح کے اوقات سے ہی القدس ہسپتال کے آس پاس کے علاقے میں مسلسل حملے دیکھنے میں آئے ہیں جن میں ہسپتال کی کئی عمارتیں تباہ کردہ گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے غزہ شہر کے مغرب میں تل الھوا کے علاقے میں القدس ہسپتال کو بمباری کرنے کے لیے متعدد بار خبردار کیا ہے۔

اسی تناظر میں القسام بریگیڈز نے اعلان کیا کہ انہوں نے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ ایک راکٹ تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر ریشون لیزیون میں گرا۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے حماس کے 20 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ جنگجو شمالی غزہ میں ایک سرنگ سے نکل کر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے اندر لڑنے والی اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا۔ فوجی ترجمان نے اتوار کو کہا کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔

فوج کے ترجمان جنرل ڈینیل ہاگری نے کہا کہ "ہم نے راتوں رات (ہفتہ اور اتوار) غزہ میں فوج کا داخلہ بڑھا دیا ہے اور وہاں لڑنے والی افواج میں مزید دستے شامل ہوئے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم آہستہ آہستہ زمینی کارروائیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ہم نے غزہ کے اطراف میں فوجی نفری میں اضافہ کردیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے سرکاری ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے افراد کی تعداد 230 سے کم نہیں ہے۔

قبل ازیں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ غزہ کے شمال میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ایک اسرائیلی افسر اور فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران غزہ میں حماس کے 450 اہداف پر حملہ کیا۔

غزہ میں مانیٹرنگ چوکیوں اور ٹینک شکن راکٹ لانچنگ والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی زمینی کارروائی میں توسیع کے لیے مزید اضافی دستے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے ہیں۔

ادھر غزہ کے اطراف کے قصبوں میں سائرن بجنے کی آوازیں آنے کی اطلاعات ہیں۔

’العربیہ‘ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی چھاپوں کے نتیجے میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے آس پاس کے علاقے میں بڑی تباہی ہوئی ہے۔ بمباری میں جبالیہ اور غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ خان یونس کے مشرق اور رفح کے مشرق میں اسرائیلی توپ خانے سے تباہ کن حملے جاری ہیں۔

غزہ میں فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ اسے علاقے میں مواصلاتی سروسز کی بحالی کے بعد بہت سی تکلیف دہ کالیں موصول ہوئی ہیں۔

ہلال احمرکا کہنا ہے کہ فیلڈ کی صورتحال ہر لمحہ مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایمبولینس سروس کے لیے ایندھن کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

فلسطینی ہلال احمر نے وضاحت کی کہ امداد کی رفتار بہت کمزور ہے اور طبی شعبے کی ضروریات کا صرف 3 فیصد پورا کررہی ہے۔

جمعہ کو شدید اسرائیلی بمباری کی کارروائیوں کے دوران غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ سروس منقطع ہونے کے بعد بتدریج واپس آنا شروع ہو گئی ہے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اتوار کو فجر کے وقت غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے مسلسل دوسری رات غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی جس میں مزید درجنوں شہری شہید ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں