الشفاء ہسپتال کے نیچےسرنگیں جنہیں برسوں قبل خود اسرائیل نے تیار کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے جلو میں ایک بار پھر الشفاء ہسپتال کا نام سامنے آیا ہے جہاں ہزاروں فلسطینیوں نے اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیےپناہ لے رکھی ہے۔

منگل کو اسرائیلی فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے اس الزام کو دہرایا کہ حماس کے جنگجو نیچے چھپے ہوئے ہیں۔

انہوں نے روزانہ کی پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ غزہ شہر کے قلب میں واقع ہسپتال کے نیچے ملٹری کمانڈ کی سہولت اور ہتھیاروں کا گودام ہے۔

حقیقیت اس کے برعکس ہے۔ وہ یہ ہے کہ برسوں قبل اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جب قبضہ کیا تو اس عمارت کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اس کے نیچے سرنگیں اسی مقصد کے تحت کھودی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ الشفاء ہسپتال کے نیچے سرنگوں اور گوداموں کی تصاویر ہیں۔ انہوں نے حماس پر راکٹ داغنے کے لیے ہسپتالوں کے قریب پوزیشن لینے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حماس کے 300 فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ کمانڈو فورسز نے اسرائیل کی شمالی سرحد پر جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے سیلوں پر حملوں کی ہدایت بھی کی تھی۔

اہم ہدف

7 اکتوبر کو غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سےغزہ شہر کے وسط میں واقع "الشفاء میڈیکل کمپلیکس" اسرائیلی فوج کے لیے ایک مرکزی ہدف بن گیا ہے۔ اسرائیل نے باربار شہریوں کو ہسپتال خالی کرنے کی وارننگ دی ہے مگر یہاں پر ہزاروں زخمیوں سمیت بڑی تعداد میں بے گھرہونےوالے افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

تاہم بمباری سے بچنے کے لیے کمپاؤنڈ میں پناہ لینے والے بہت سے فلسطینیوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے نقل مکانی کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کے پاس پناہ لینے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

اس ہسپتال پر اسرائیلی توجہ کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ وہ حماس پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اپنی گراؤنڈ فلور یا نیچے کو ملٹری کمانڈ سینٹر اور ہتھیاروں کے گودام میں تبدیل کر رہا ہے۔

تاہم وہ سچائی جس کے بارے میں وہ اسرائیل میں بات نہیں کرتے وہ سب سے پہلے ہے: اس ہیڈ کوارٹر (الشفا کمپلیکس) کو سب سے پہلے اسرائیل نے جنگی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔

اسرائیل نے 1967ء میں غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے کے بعد سے اس کی تنصیبات کو فوجی گورنر کے ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کیا تھا ہے۔

سنہ1980ء میں اس نے گراؤنڈ فلور کو ایک خندق اور کمانڈ کے لیے پناہ گاہ بنانے کے لیےتیار کیا تھا اور 1994 میں اپنے قبضے کے آخری دن تک اسے استعمال کرتا رہا۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ شہر میں مقیم 650,000 سے زائد فلسطینیوں کو طبی خدمات فراہم کرنے والا یہ کمپلیکس جنگ سے قبل ہی اس پٹی پر برسوں سے مسلط اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔

3 ہفتے قبل تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے حماس کے عسکریت پسندوں پر بارہا الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر ہسپتالوں کے قریب یا نیچے پوزیشنیں سنھبال ررہے ہیں۔

دوسری جانب حماس نے ہسپتال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات کی تردید کی۔حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کے ہسپتالوں کو تباہ کرنے کے لیے اس طرح کے بہانے تراش رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں