عرب پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی کونسل سے غزہ میں اسرائیلی جنگ کی تحقیقات کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں نہتے شہریوں پر اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے۔

عرب پارلیمنٹ کی طرف سے انسانی حقوق کونسل کو لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں بے گناہ بچوں، خواتین اورعام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے لیے اسرائیل کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے جو غزہ کی پٹی میں بے گناہ شہریوں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے ان کی نسل کشی کا مرتکب ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات ناگزیر ہوچکی ہے۔

عرب پارلیمنٹ نے کہا کہ "اس خونریز جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ چکی ہےاور بتیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔یہ قتل عام ایک مکمل جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے جسے بین الاقوامی سطح پر مجرمانہ اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔اسرائیل کی جنگی کارروائیاں انسانی حقوق اوربین الاقوامی قوانین کے تمام معاہدوں اور جنگ کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

عرب پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں بالخصوص غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت شہریوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ ہے۔ یہ جنگ تمام بین الاقوامی اور انسانی کنونشنوں، ضوابط اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

عرب پارلیمنٹ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی قرار دادوں کا اطلاق کرتے ہوئے اسرائیل کو کٹہرے میں لائے۔

عرب پارلیمنٹ نے فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے حصول، القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانےکی حمایت شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں