سات اکتوبر: حماس کے اسرائیل پر حملے کے پلان کی اہم معلومات کا انکشاف

منصوبہ کس نے کتنے عرصے میں تیار کیا۔ کس کو کیا ذمہ داری سونپی گئی اور اسے صیغہ راز میں رکھنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سات اکتوبر 2023ء کا دن اسرائیل اور فلسطین دونوں کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن ثابت ہوا۔ اس روز حماس نے اسرائیل کے جدید ترین جاسوسی نظام کو شکست دے کرسرپرائز حملہ کرکے اسرائیلی ریاست کے ناقابل تسخیر ہونے کے زعم کو پاش پاش کردیا۔

اگرچہ حماس کی طرف سے گذشتہ 7 اکتوبر کو اسرائیل کے اندر کیے گئے اچانک حملے کو 4 ہفتے گزر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 1400 افراد مارے گئے تھے، تاہم مجموعی طور تفصیلات ابھی تک مبہم ہیں۔

راز داری میں اقدامات

’دی گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک نئی برطانوی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملے کے وقت حماس کے ہزاروں جنگجوؤں کو ہدایات زبانی طور پر دی گئی تھیں۔ پیغامات کو خفیہ رکھنے کا مقصد اسرائیلی جاسوسوں سے بچنا اور اسرائیل کے جدید ترین جاسوسی نظام کودھوکہ دینا تھا۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ حماس کے رہ نماؤں نے ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس کے بارے میں انہوں نے جنگجوؤں کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

جنگجوؤں کو اس کے بارے میں 7 اکتوبر کو بتایا گیا جس کےفوری بعد اس پر عمل درآمد کیا گیا۔

سات اکتوبر کی صبح چار بجے سے پہلے احکامات جاری کیے گئے اور اس کے بعد متعلقہ افراد کو باقاعدہ روٹین کی تربیت میں بلایا گیا۔

تاہم جو چیز حیران کن ہے وہ معمول کے مطابق فجر کی نماز میں حاضری کا کم ہونا ہے۔

سات اکتوبر کی صبح حماس نے نئی ہدایات جاری کیں، جو واضح اور قابل فہم تھیں، لیکن وہ زبانی تھیں۔ ہدایات دی گئیں کہ جنگجواپنے ہتھیار اور گولہ بارود لے آئیں اور انہیں مخصوص مقامات پر جمع ہوں "۔

حماس نے 7 اکتوبر کا حملہ کیسے کیا؟

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپریشن "طوفان الاقصیٰ " کا منصوبہ حماس کے تجربہ کار رہ نماؤں کے ایک گروپ نے تیار کیا تھا، مگراس کے بارے میں ہدایات کا ایک سلسلہ طلوع فجر کے بعد پورے غزہ میں پھیلایا گیا۔

پہلے 100 یا اس سے زیادہ جنگجوؤں کی بٹالین کے کمانڈروں کو ہدایات دی گئیں، پھر 20 یا 30 پلاٹون کے کمانڈروں کو، جنہوں نے بٹالین کے درجنوں کے سربراہوں اور ڈویژن کمانڈروں کو اطلاع دی۔

پہلی ہدایات یہ تھیں کہ جنگجو غزہ کے ارد گرد لگائی گئی اربوں ڈالر کی باڑ کو اڑا کر تباہ کر دیں، پھر دوسری طرف سے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کریں۔

یہ معلومات ماہرین، براہ راست حاصل کی گئی معلومات اور حماس کے زندہ پکڑے گئے جنگجوؤں سے تفتیش کے دوران حاصل کی گئیں۔

ماہرین آپریشن کی کامیابی کی وجہ ایک اہم ترین عنصر کو قرار دیتے ہیں جو کہ باڑ میں دراندازی کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔

بعض ذرائع نے ان کی تعداد 3000 بیان کی ہے۔ ان میں اسلامی جہاد کے ارکان بھی شامل تھے، مگر اسلامی جہاد کے کمانڈروں کو حماس کے اس منصوبے کا پیشگی علم نہیں تھا۔

افراتفری کی حالت میں غزہ سے شہری بھی داخل ہوئے جس پر اسرائیل کو کارروائی میں مشکل پیش آئی۔

3 مہمات پر مبنی قطعی منصوبہ

حماس کی اکائیوں کو بھیجے گئے تحریری احکامات میں تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ حماس کےدو رہ نماؤں یحییٰ السنوار اور القسام بریگیڈز کے کمانڈر محمد الضیف نے مل کر تیار کیا تھا۔

انہوں نے ایلیٹ ڈویژن اور نچلے درجے کے کمانڈروں کو تفصیلی منصوبہ اس وقت دیا جب حملے کا اعلان کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے احکامات کے ساتھ جنگجوؤں کواسرائیلی فوج کے ٹھکانوں ، ان کی تنصیبات، اہم مقامات کے تفصیلی نقشے تھے جو اسرائیل میں کام کرنے والے کچھ ہمدردوں سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی تھے۔

مختلف یونٹوں کو تین کام دیے گئے تھے۔ پہلے گروپ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ غزہ کے ارد گرد موجود کمزور اور غیرمسلح اسرائیلی فوجی اڈوں اور گھروں پر حملہ کریں۔

دیگر یونٹوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اسرائیلی فوجی دستوں کے آنے قبل مرکزی سڑکوں پر گھات لگا کر اپنی پوزیشن مضبوط کریں۔

تیسرے گروپ کا کردار یہ تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو پکڑ کر باڑ میں موجود خالی جگہ سے لائیں غزہ کے اندر موجود چاک وچوبند ٹیمیں انہیں غزہ کے بڑے سرنگ کمپلیکس تک لے جانے کا انتظار کر رہی ہوں گی۔ اس دوران فلسطینی 240 سے زیادہ اسرائیلیوں کو یرغمال بنا کر غزہ لانے میں کامیاب ہوگئے۔

"انتہائی تنگ دائرہ"

اس کے علاوہ اسرائیلی سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ حماس کی بیرون ملک سیاسی قیادت کو آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ حماس کے ایک قریبی ذریعے نے گذشتہ ماہ ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ ’’یہ ایک بہت ہی تنگ دائرے میں تیار کردہ پلان تھا‘‘۔

حماس کے عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ حملے کی منصوبہ بندی دو سال قبل اسرائیلی پولیس کے یروشلم میں مسجد اقصیٰ پر چھاپے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ ٹائم لائن مختصر تھی، کم سے کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ 18 ماہ کا وقت تھا۔ اس عرصے کے دوران اسرائیل کے اس یقین کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی کہ حماس نے اسرائیل کے خلاف تشدد ترک کردیا ہے اور اس کی ساری توجہ غزہ کی پٹی میں معیشت کی بہتری پر مرکوز ہے۔

ابھی تک اس حملے میں حماس کے رہ نماؤں کے صحیح کردار کا تعین نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ السنوار اور محمد الضیف اس کی منصوبہ بندی میں "اہم" تھے۔

"7 اکتوبر" اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگوں کا بدترین دور

ذرائع کے مطابق حماس نے حملہ آوروں میں سے کچھ کو اس وقت پیچھے ہٹنے کا حکم دیا جب اسرائیلی افواج نے تیاری شروع کر دی اور بہت سے سینیر رہنما غزہ واپس آگئے۔ اگرچہ القسام بریگیڈز اور ایلیٹ یونٹ کے بہت سے ارکان مارے گئے لیکن زیادہ تر رہ نما زندہ رہے۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے اندر اچانک حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اس حملے کو "یوم سیاہ" قرار دیا تھا جب کہ تل ابیب نے پرتشدد اور منظم طریقے سےغزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کردی۔ اسرائیل کی اس بدترین جنگ میں اب تک 10,000 سے زیادہ شہری شہید ہوئے ہیں جن میں چار ہزار سے زیادہ بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں