اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے ہسپتالوں کو گھیرے میں لے لیا
ہسپتالوں کو فوجی کارروائیوں کا نشانہ بنانے پر عالمی قانون کیا کہتا ہے
غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جاری جنگ کے پینتیسویں دن اسرائیلی فورسز نے اپنے ٹینک غزہ شہر کے وسط میں واقع ہسپتال اسکوائر کے آس پاس کے علاقے میں دھکیل دیے، جس میں 4 ہسپتال شامل ہیں۔
اسرائیلی افواج نے ان کمپلیکس کا بھی محاصرہ کیا جب کہ طبی شعبے میں نمایاں مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
ہسپتالوں کے محاصرے اور نشانہ بنانے پر بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ طبی سہولیات پر جان بوجھ کر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں بالخصوص پہلے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 اور 19 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہسپتالوں سمیت صحت کے اداروں اور یونٹس پر حملہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
Under International Humanitarian Law the principle is clear: Hospitals are protected, because of their life-saving function for wounded & sick.
— ICRC (@ICRC) November 2, 2023
Yes, they can lose their protection, but this is not a free license to attack. @CDroegeICRC, ICRC Chief Legal Officer, explains 👇 pic.twitter.com/ZbhHkvmd0y
چوتھے جنیوا کنونشن نے آرٹیکل 18 میں ہسپتالوں کے لیے خصوصی تحفظ مختص کیا ہے۔ زخمیوں، بیماروں، کمزوروں اور خواتین کی دیکھ بھال کرنے والے سول ہسپتالوں کوکسی بھی حالت میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اس معاہدے کی 19ویں شق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "سویلین ہسپتالوں کا تحفظ ناگزیر ہے "۔
اس کے علاوہ یہ تحفظ زخمیوں اور بیماروں کے ساتھ ساتھ طبی عملے اور نقل و حمل کے ذرائع تک پھیلا ہوا ہے۔
بین الاقوامی ریڈ کراس کی ویب سائٹ کے مطابق "زخمی اور بیمار" کی اصطلاح میں کوئی بھی فرد شامل ہے، چاہے وہ سویلین ہو یا فوجی، جسے طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔
چند مستثنیات
البتہ اس اصول میں صرف چند مستثنیات ہیں۔
ان انتہائی تنگ استثنیٰ میں تنازع کے فریق کی طرف سے طبی سہولیات کا استعمال ان کے انسانی کاموں کے دائرہ سے باہر "دشمن کے لیے نقصان دہ عمل" کا ارتکاب کرنا ہے۔
جب کہ بین الاقوامی قانون اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر اس بارے میں شک ہے کہ آیا طبی یونٹس کو "نقصان دہ عمل" کے ارتکاب کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ سمجھا جانا چاہیے کہ وہ اس طرح استعمال نہیں ہو رہے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیل نے اس بات کو فروغ دینے کی کوشش کی کہ حماس کے جنگجو غزہ کے متعدد ہسپتالوں کو اپنے رہنماؤں کے زیر زمین اڈوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایسی ویڈیوز شائع کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ارکان کے زیر استعمال ان طبی سہولیات کے نیچے سرنگیں دکھائی دیتی ہیں۔
تاہم حماس نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ہسپتالوں کا دورہ کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھیجے تاکہ اسرائیلی ریاست کےالزامات کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔