’العربیہ‘ کی ٹیم الشفاء ہسپتال کے اندرپہنچ گئی،بیماروں اورزخمیوں کی حالت زار کی عکاسی
العربیہ اور الحدث چینلز نے غزہ کی پٹی میں الشفاء اسپتال کے اندر موجود زخمیوں کی خصوصی تصاویر نشر کیں۔ العربیہ کی ٹیم نے اس وقت ہسپتال کے اندر کا دورہ کیا جب اسرائیلی فوج کی وارننگ پر ہسپتال کا طبی عملہ اور بڑی تعداد میں مریض وہاں سے باہر نکل گئے تھے۔
کل ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے ہسپتال کے کارکنوں سے کہا کہ وہ اسے ایک گھنٹے کے اندر اندر خالی کر دیں۔
العربية تبث صورا حصرية من داخل مستشفى الشفاء للجرحى المتبقين فيه #العربية pic.twitter.com/Ick3T55sbh
— العربية (@AlArabiya) November 18, 2023
ایک فلسطینی طبی ذریعے نے ہفتے کے روز عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد غزہ کے الشفا ہسپتال سے زیادہ تر ڈاکٹروں، مریضوں اور بے گھر افراد کو نکال لیا گیا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے اور درجنوں مریض اب بھی الشفاء ہسپتال میں موجود ہیں۔
فلسطینی طبی ذریعے نے مزید کہا کہ الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں موجود زیادہ تر ڈاکٹروں، مریضوں اور بے گھر افراد نے ہسپتال کو وسطی غزہ کے دیگر ہسپتالوں کی طرف منتقل کردیا۔
ذرائع نے کہا کہ سینکڑوں مریضوں کو پہلے ہی پیدل وہاں سے نکالا جا چکا ہے، اور وہاں بے گھر ہونے والے افراد کے علاوہ درجنوں ڈاکٹر ہسپتال چھوڑ چکے ہیں۔
ذریعہ نے کہا کہ "منظر افسوسناک تھا" کیونکہ مریضوں کو وہیل چیئر پر دو کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق ہسپتال کو مکمل طور پر خالی نہیں کیا گیا تھا۔ انکیوبیٹرز میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے علاوہ درجنوں مریض وہاں موجود تھے۔
غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے ابھی بھی الشفا ہسپتال میں موجود ہیں۔ وزارت نے کہا کہ 120 مریض اب بھی ہسپتال میں ہیں جن میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے بھی شامل ہیں۔