فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی کوئی بھی کوشش ہمارےخلاف اعلان جنگ تصور ہوگا: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے وزیراعظم بشر الخصاونہ نے منگل کو کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش جو غزہ یا مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے لیے حالات پیدا کرے اردن اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی خلاف ورزی اور اردن کے خلاف اعلان جنگ تصور ہوگی۔

اردن کے وزیر اعظم کی طرف سے شائع کردہ ایک بیان میں الخصاونہ نے اردن کی جانب سے ایسی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کی کوشش اردن کےخلاف معاہدہ توڑنے اور ہمارے خلاف اعلان جنگ تصور ہوگا۔

یہ بات اردنی وزیر اعظم اور قطری وزیر برائے بین الاقوامی تعاون لولوہ الخاطر کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

الخصاونہ نے کل پیر کے روز العربیہ اور الحدث چینلز کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا تھا کہ فلسطین میں سیاسی حل کی عدم موجودگی ہمیں بدترین تشدد کی طرف لے جائے گی۔اس کے بعد پیدا ہونے والا بحران سنھبالنا مشکل ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگی جرائم ہیں جو نسلوں کے درمیان فاصلہ قائم کرتے ہیں جو تشدد کے دوسرے چکروں کا باعث بنے گے اور تنازع کے سیاسی حل کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایک فلسطینی بچے کی زندگی کسی دوسرے بچے کی زندگی سے کم نہیں ہے۔ الخصاونہ نے مزید کہا کہ "یہ ایسا ہی ہے جیسے اسرائیل کو استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کے نظام کی پاسداری اور خلاف ورزی نہ کرے۔ وہ جو چاہے کرتا پھرے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہو"۔

الخصاونہ نے مزید کہا کہ کیا کہ "عرب اسلامی وزارتی کمیٹی نے اسرائیل سے قانونی استثنیٰ کو ختم کرنے کے لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے اپنے دوروں کا آغاز کیا ہے"۔

الخصاونہ نے زور دے کر کہا کہ "اردن غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے اس طرح نمٹ رہا ہے جیسے اسے اردن کی سرحد تک رسائی مل رہی ہے، اور فوج اردن کی سرحد کی حفاظت کے لیے اپنا آئینی فرض ادا کر رہی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں