سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے آج منگل کو زور دے کر کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے مگر ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔
ان کی یہ بات روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے متعدد وزرائے خارجہ کے درمیان ماسکو میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اسرائیل کا دفاع قرار نہیں دیا جا سکتا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے"۔
وزير الخارجية السعودي: يجب حماية المدنيين في قطاع غزة
— العربية (@AlArabiya) November 21, 2023
#العربية pic.twitter.com/leDWNITycy
انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک سنجیدہ امن عمل، جنگ بندی اور انسانی امداد پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تشدد اور شہریوں پر حملوں کو روکنے سے پہلے غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بین الاقوامی قانونی اور اخلاقی معیارات کو لاگو کرنے اور نہتے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے کیے جانے والے گھناؤنے جرائم پر حرکت میں آنے پر زور دیا‘‘۔
لاوروف کے ساتھ ملاقات میں سعودی عرب، فلسطین، اردن، مصر، انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے شرکت کی۔
-
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی، پچاس اسرائیلیوں کے بدلے300 فلسطینیوں کی رہائی
العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے قیدیوں کے معاہدے کے حتمی مسودے کا ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملے میں دو لبنانی صحافی اور ایک عام شہری ہلاک
سات اکتوبر سےاب تک اسرائیلی حملوں میں 50 صحافی ہلاک ہو چکے
مشرق وسطی -
روسی صدر پوتین کی دعوت پر’برکس‘ قیادت بھی غزہ پر ہم آواز
روسی صدر ولادی میر پوتین نے 'برکس' ممالک کے رہنماوں کے سامنے غزہ میں جاری بحران کا ...
بين الاقوامى