سنہ 1948ء اسرائیل اور عرب ملکوں میں جنگ بندی معاہدے جو لڑائیاں روکنے کا باعث بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطین کی سرزمین پر برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے اور 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کی ریاست کے قیام کے اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ کے خطے کو پہلی عرب ۔ اسرائیل جنگ کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلسطین کی سرزمین ہاشمی مملکت اردن، مملکت مصر، مملکت عراق، مملکت سعودی عرب، شام اور لبنان ایک طرف اور صہیونی ملیشیا کے حمایت یافتہ یہودی رضا کار جنگجو دوسری طرف تھے۔

یہ جنگ 9 ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہی اور اس کے نتیجے میں دونوں طرف سے ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے گئے۔

اس کے بعد اسرائیلیوں اور عرب ممالک کے ساتھ یکے بعد دیگرےجنگ بندی معاہدے طے پائے جن کے نتیجے میں لڑائیاں اور خون خرابہ روکنے کا موقع ملا

مصر کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ

یہ جنگ 1949ء کے جنگ بندی کے معاہدوں کے بعد ختم ہوئی جس پر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ لڑائی کے خاتمے اور جنگ بندی کے خطوط کا تعین کرنے کے لیے دستخط کیے تھے۔

1948 میں یافا کے قریب تباہی کا حصہ

اس کے ساتھ ہی نو قائم شدہ اقوام متحدہ نے جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مبصرین بھیجنے میں تامل سے کام نہیں لیا۔ اقوام متحدہ کے مبصرین جنگ زدہ علاقوں میں آئے اور وہاں ہونےوالی خلاف ورزیوں کی رپورٹس بھی مرتب کیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ، فرانس اور امریکا نے 1950ء میں سہ فریقی اعلامیے پر دستخط کیے، جس کے ذریعے ان ممالک نے جنگ بندی کے خطوط کی نگرانی کرنے اور اقوام متحدہ کی راہداریوں کے اندر طریقہ کار کے ذریعے ان کے نفاذ کو یقینی بنانے کا عہد کیا تاکہ ان کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔ اس معاہدے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیےبھی اقدامات شامل تھے۔

12 جنوری 1949ء کو یونانی جزیرے روڈس پر مصر۔ اسرائیل جنگ بندی پر مذاکرات شروع ہوئے۔ اس دوران مصریوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے پر اصرار کیا جس میں 14 اکتوبر 1948ء سے پہلے والی پوزیشن پر عرب افواج کی واپسی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ اس کے ساتھ ہی المجدل- الخلیل روڈ کے شمال سے اسرائیلی واپس چلے گئے اور یہ علاقہ عرب فوج کو واپس کردیا گیا۔

24 فروری 1949ء کو اسرائیلیوں اور مصریوں نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے مطابق مصر نے جنگ بندی لائن کو اسرائیل کے لیے سیاسی سرحد کے طور پر مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ مصر نے جنگ بندی کو مسئلہ فلسطین کے حل کے طور پر پیش کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ دوسری طرف مصر اور فلسطین کو الگ کرنے والی سرحدوں کو برطانوی مینڈیٹ کے دوران جنگ بندی لائن کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت مصر نے غزہ کے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق فلوجہ میں محصور مصری افواج کو مصری علاقے میں واپس جانے کی اجازت دی گئی۔

اردن، لبنان اور شام کے ساتھ جنگ بندی

اردن کے ساتھ اسرائیلیوں نے 3 اپریل 1949ء کے معاہدے کے مطابق مسئلہ فلسطین کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے طریقے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ اسی دوران اردنی افواج نے فلسطینی علاقوں کے اندر اپنی پوزیشنیں برقرار رکھیں۔ اس وقت معاہدے کے تحت اردنی افواج مشرقی یروشلم میں تعینات تھیں۔

یہودیوں کا ایک گروپ پرانے شہر یروشلم سے نکل رہا ہے۔

شارون میدان کے قریب تعینات اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ اردنی افواج کو ان علاقوں میں پیش قدمی کرنے کا موقع ملا۔ اردن نے وادی عارہ اور مثلث کے علاقوں کو اسرائیلیوں کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے مارچ 1949ء کے مہینے کے دوران لبنانیوں کے ساتھ ایک اور جنگ بندی پر دستخط کیے۔ اس کے مطابق اسرائیلیوں نے جنوبی لبنان میں جن دیہاتوں پر قبضہ کیا تھا ان سے دستبردار ہو گئے اور لبنان اور فلسطین کے درمیان سابقہ سرحدوں کو جنگ بندی کی لکیر کے طور پر اپنانے پر رضامند ہو گئے۔

20 جولائی 1949ء کو شام اور اسرائیل نے ایک جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے ذریعے شامی بین الاقوامی سرحد کے مغربی جانب سے اپنی افواج کو نکالنے پر رضامند ہوئے۔ اس کے علاوہ دونوں فریقوں نے شام اور سابقہ فلسطینی علاقوں کی سرحدوں پر ایک غیر فوجی زون بنانے پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں