اسرائیلی فوجیوں کے تبادلے کے لیے حماس کی کیا شرائط ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی کی تیسری توسیع کے بارے میں بات چیت جاری ہے، جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مزید قیدیوں کے تبادلے کو شامل کیا جائے تاکہ مستقل جنگ بندی ہو سکے۔

قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی سے طے پائی عارضی جنگ بندی کے پانچویں دن اسرائیل نے 30 فلسطینی قیدیوں (خواتین اور بچوں) کو اپنی جیلوں سے رہا کر دیا جس کے بدلے میں حماس نے 10 اسرائیلی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا۔

"تمام قیدیوں کی رہائی"

حماس کے مرکزی رہ نما اسامہ حمدان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اضافی دنوں کے لیے جنگ بندی میں توسیع کا امکان ہے اور مذاکراتی عمل دو سمتوں میں آگے بڑھ رہا ہے: پہلا انسانی ہمدردی ہے جس میں ممکنہ حد تک بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ دوسرا پہلو سیاسی ہے جس میں اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ آیا غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو کیسے ختم کیا جائے اور غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیسے ختم کیا جائے۔ اس کے علاوہ ہم ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کی رہائی ہے۔

تاہم دوسری طرف انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک ان دونوں مذاکراتی راستوں میں سے کسی میں بھی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔

فوج کا کیا ہوگا؟

اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے حمدان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے مسلسل مصائب اور اسرائیلی جارحیت کے تناظرمیں یرغمالی فوجیوں کے بارے میں مذاکرات کرنا مشکل ہے"۔

لیکن انہوں نے کہا کہ ایک شرط ایسی ہے جس سے اس مسئلے پر بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے اور وہ شرط جنگ روکنا ہے، کیونکہ اس کے بعد فوجیوں کو رہا کرنے کے بارے میں بات کرنے کا موقع مناسب اور موزوں ہوگا"۔

اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ اس وقت تک نہیں روکے گا جب تک حماس کو کچل نہیں دیا جاتا۔ اسرائیل کا کہنا ہےکہ جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر نہ تو غزہ واپس جائے گا اور نہ ہی حماس کی حکومت دوبارہ قائم ہوگی۔

مختلف شرائط

اسامہ حمدان نے کہا کہ "قیدی اسرائیلی فوجیوں کے تبادلے کے معاہدے کی شرائط و ضوابط موجودہ مذاکرات اور جنگ بندی کی شرائط و ضوابط سے بالکل مختلف ہوں گے"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس کے پاس متعدد اسرائیلی فوجی موجود ہیں، لیکن یقیناً وہ ان کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ مذاکرات کا حصہ ہے۔

ٹارگٹ کلنگ

اسامہ حمدان جو اکثر لبنان میں حماس کی طرف سے منعقد کی جانے والی پریس کانفرنسوں میں بات کرتے ہیں جس میں وہ غزہ کی پٹی کی صورت حال کی پیش رفت اور جنگ بندی کے راستے اور قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میرےپاس ایسی کوئی معلومات نہیں کہ اسرائیل نے قطر کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بیرون ملک موجود حماس کی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں