حماس نے ہمارے قیدیوں کو رہا کرنے سے قبل "سکون بخش ادویات" دی تھیں: اسرائیلی ڈاکٹر
اسرائیلی وزارت صحت میں نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور کنیسٹ ہیلتھ کمیٹی کے ڈاکٹر رونیٹ اینڈوالٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ "حماس نے مغوی افراد کو قید سے رہائی سے پہلے انہیں خوش نظر آنے کے لیے وٹامنز اور سکون آور ادویات دی تھیں"۔
صحت کمیٹی کے سربراہ شاس پارٹی کے رکن کنیسٹ یونی مشرقی نے کہا کہ "وزارت صحت کو دنیا بھر کی صحت کی تنظیموں کو ان طبی نتائج کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کرنی چاہیے جو مغوی کی واپسی کے بعد دریافت ہوئے ہیں"۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار"ہارٹز" نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ "حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو ان کی رہائی پر خوش ہونے کے لیے منشیات دی تھیں!"۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے دوران حماس پر "جنسی تشدد کی مشق" کرنے کا الزام لگایا اور ایک اسرائیلی پولیس اہلکار نے کنیسٹ کو بتایا کہ ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں اب تک "1500 سے زیادہ چونکا دینے والی شہادتیں اکٹھی کی گئی ہیں۔
جرائم پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ کوچاو ایلکیم لیوی نے "حماس" کے حملے کے دوران خواتین کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے کا دعویٰ کیا گیا"۔ انہوں نے کہا کہ "7 اکتوبر کو عصمت دری اور دیگر جنسی حملوں کا شکار ہونے والوں کی اکثریت ماری گئی اور وہ کبھی گواہی نہیں دے سکیں گے"۔
دوسری جانب حماس نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے اسے "گمراہ کن صہیونی مہمات کی جھوٹی مشین کا نیا شیطانی پروپیگنڈہ قرار دیا۔