گذشتہ دو دنوں کے دوران مشہور کویتی مصنف محمد الرمیحی نے ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے موقعے پر"سفر کی دعا" نشر کرنے پر تنقید کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
کویتی مصنف کا خیال ہے کہ کچھ پروازوں میں سفری دعا نشر کرنے سے مسافروں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔
دوحا میں ہفتے کے آغاز میں خلیج اور جزیرہ نما عرب کے مطالعہ کے فورم سے خطاب میں انہوں نے وضاحت کی کہ خطے کی کچھ ایئر لائنز ٹیک آف سے پہلے دعا نشر کرتی ہیں۔ حالانکہ سفرکی دعا کسی زمانے میں اونٹوں پر سفر کے آغاز کے موقعے پر مانگی جاتی تھی جب سفر تکلیف دہ اور خطرات سے بھرپور ہوتا تھا۔
لا عاد تركب طيارة يا محمد الرميحي
— حمزه الجبرتي العقيلي 🇸🇴 (@aljabarti_515) December 8, 2023
ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں طیاروں سے سفر کرتے ہوئے دعا کی ضرورت نہیں۔
"حیرت اور تشویش کا اظہار"
انہوں نے نشاندہی کی کہ جدید سفری طریقوں میں دوسرے مخلوط معاشروں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں سے کچھ اس دعا کو کم از کم حیرت اور شاید تشویش کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔
الرمیحی نے کہا کہ انہوں نے ایک بار کویت ایئرویز سے کہا کہ وہ اس دعا کو نشر نہ کرے، کیونکہ یہ مسافروں کو خوفزدہ کرتی ہے اور انہیں سفر کی پریشانیوں اور افسردہ کرنے والے مناظر کی یاد دلاتی ہے، لیکن کمپنی نے ان کی تجویز مسترد کردی تھی۔
تاہم الرمیحی کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم دوسری جانب الرمیحی نے تنقید کرنے والوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ الرمیحی خلیجی معاشروں اور عرب ثقافت کے بارے میں بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ اس سے قبل العربی میگزین کے چیف ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں اور "عالمی علمی سیریز" کے کتابی مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہوں نے کویت میں قومی کونسل برائے ثقافت کے سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور متعدد کویتی مشاورتی کمیٹیوں کے رکن رہے۔