اسرائیلی فوج نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجیوں کو شمالی غزہ میں جبالیا میں حماس رہ نما کے گھر میں موجود ایک کمپیوٹر سے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کا منصوبہ ملا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گھر کو حماس تحریک کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ حماس کے لیپ ٹاپ کے علاوہ دشمنی سے متعلق دستاویزات بھی ملی ہیں، جن میں 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
فوجی تنصیبات اور گودام
انہوں نے مزید کہا کہ جبالیا میں لڑائیوں کے دوران ایک رہائشی علاقے اور ایک اسکول کے قریب اسرائیلی فوجیوں نے حماس کے زیر استعمال فوجی تنصیبات اور ہتھیاروں کے ڈپو دریافت کیے۔
ٹاس نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے نشاندہی کی کہ گوداموں میں میزائل، مختلف قسم کے اینٹی ٹینک گرینیڈ لانچر، دھماکہ خیز آلات، ہینڈ گرنیڈ اور مشین گنیں موجود تھیں۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں غزہ پر تباہ کن بمباری شروع کر دی تھی اور غزہ کا مکمل محاصرہ کر دیا تھا۔حماس کے حملے میں کل 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے مگر اسرائیلی بمباری میں 18 سے زائد فلسطینی شہید اور پچاس ہزارسے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں 70 فی صد بچے اورعورتیں ہیں۔