فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ :چرچ پر اسرائیلی فائرنگ میں ماں بیٹی کی ہلاکت، ویٹی کن کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر گائرنگ اور ان کے قتل عام کے لاتعداد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں شہری جان سے گئے۔

اس حوالے سے ایک تازہ واقعہ پیش آیا ہے جس میں اسرائیلی نشانہ بازوں نے غزہ میں چرچ میں عبادت کے لیے آنے والی فلسطینی خاتون اور اس کی جواں سال بیٹی کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک سنائپر نے ہفتے کی دوپہر فلسطینی ناہد خلیل بولوس انطون کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنی بیٹی سمر کمال انطون کے ساتھ غزہ کے ہولی فیملی چرچ میں مذہبی رسومات اور دعا کے لیے ہنچی تھی۔ اس ماں بیٹی کا تعلق غزہ کی پٹی میں لاطینور دعای خانقاہ کے احاطے سے ہے۔

پیٹریارچیٹ نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ اسرائیلی فوج نے "کنونٹ آف دی سسٹرس آف مدر ٹریسا" (مشنریز آف چیریٹی) کو نشانہ بنایا جس میں 54 سے زائد معذور افراد رہائش پذیر ہیں۔ ایندھن کے ٹینک اور الیکٹرک جنریٹر کو بھی تباہ کر دیا،جو چرچ میں توانائی کا واحد ذریعہ تھے۔ بڑے دھماکے اور آگ کے نتیجے میں نقصان پہنچا۔ معذور افراد کو پناہ گاہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

پیٹریاچیٹ نے اپنے بیان میں اس بات کی بھی تصدیق کی کہ 7 دیگر افراد اس وقت سنائپر کی گولیوں سے زخمی ہوئے جب وہ چرچ کی دیواروں کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرجا گھرکی عمارت کے اندر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کی۔

اسرائیلی فوج کا تحقیقات کا اعلان

اس واقعے کی باز گشت پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہاں تک کہ ویٹیکن نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

کل اتوار کے روز اپنے خطبہ میں پوپ فرانسس اول نے کیتھولک پیرش کی ماں اور اس کی بیٹی کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے ویٹی کن میں اینجلس کی دعا کے بعد کہا کہ "ہمیں غزہ سے دردناک اور انتہائی خطرناک خبریں موصول ہوتی ہیں، جہاں بےگناہ شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک تازہ واقعے میں ایک عیسائی خاتون اور اس کی بیٹی کو قتل کردیا گیا۔ یہ معصوم لوگوں کا قتل تھا۔

انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ اسرائیل اس واقعے کی انکوائری کرے گا۔

"لاطینی Patriarchate" کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی بنیاد 1099 میں یروشلم میں رکھی گئی تھی اور یہ "رومن کیتھولک چرچ" کا حصہ ہے جس کے علاقوں میں قبرص، اردن، فلسطین اور اسرائیل شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاہم اس واقعے پر کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں