اسرائیلی یرغمالی کی گاڑی غزہ کے انڈونیشی ہسپتال سے ملنا ہسپتال کو جنگجووں سے جوڑتا ہے
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اسرائیلی یرغمالی کی گاڑی کا غزہ میں قائم انڈونیشی ہسپتال سے ملنے کا واقعہ جنگجووں اور انڈونیشیا کے ہسپتال کے درمیان تعلقات کو واضح کرتا ہے۔ شمالی غزہ میں کام کرنے والے انڈونیشی ہسپتال میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کی گاڑی اسرائیلی فوج نے ہسپتال سے ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے انڈونیشی ہسپتال سے سمیر الطلقاء کے خاندان کی اسرائیلی نمبر پلیٹ کی گاڑی ملی ہے۔ واضح رہے الطلقاء ان تین یرغمالیوں میں شامل تھے جنھیں اسرائیلی فوج نے غلط شناخت کی وجہ سے ہلاک کر دیا تھا۔
جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گاڑی میں راکٹ سے چلنے والے دستی بم آر پی جی کی باقیات ملی ہیں۔ گاڑی میں خون کے دھبے میں پائے گئے جن کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایک اور یرغمالی کے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈونیشی ہسپتال سے گاڑی کا ملنا ہسپتال کو 7 اکتوبر کے واقعات سے جوڑتا ہے۔