سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کویت میں ایک خاتون راہ گیر اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد خاتون کی طرف سے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب کویتی وزارت داخلہ نے ایک مختصر بیان میں اس واقعے کے بارے میں کہا ہےکہ پولیس اہلکار اورخاتون کے درمیان ہونے والے واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور کیس مجاز حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے کل سوموار کی شام ایک بیان میں اعلان کیا کہ کچھ پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ڈیوٹی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کا واقعہ حقیقی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ واقعے کو پولیس اسٹیشن ریفر کر دیا گیا ہے، جہاں تمام ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاہم وزارت نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے مزید تفصیلات واضح نہیں کیں، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ تحقیقات ہو رہی ہیں۔
متداول من الكويت…
— إياد الحمود (@Eyaaaad) December 25, 2023
فوضى على الطريق العام لسبب غير معروف حيث قامت امرأة بصفع رجل أمن، وقام شاب بضرب الشرطي نفسه ثم قفز عليه من الأعلى لإكمال الصراع لكن الشرطي رد عليه وضربه.
لا توجد معلومات عن أسباب ما حدث والبعض يطالب بمحاكمتهم لإهانتهم رجل يمثل الدولة.pic.twitter.com/KS8cBvibuu
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹریفک پولیس اہلکاروں نے ایک 21 سالہ نوجوان کی گاڑی روکی اور اسے لاپرواہی سے گاڑی چلانے پر تنبیہ کی۔ لڑکے نے اپنے والدین کو بلا لیا۔ دونوں میاں بیوی نے موقعے پر پہنچ کر بیٹے کو چھوڑنے کا کہنا مگر دونوں فریقین کے درمیان تلخ کلامی بڑھتی گئی۔
پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جب نوجوان کی والدین اپنی گاڑی میں پہنچے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو روکنے پر اعتراض کیا، جس پر پولیس اہلکار کو دوسری پولیس پارٹی کو مدد کے لیے بلا لیا۔ اس دوران لڑکے اور اس کی والدہ نے پولیس اہلکار کو دھکے دیے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔