غزہ کی پٹی کے حوالے سے مصر کی تجویز کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ ہفتے سے قاہرہ میں فلسطینی تنظیم حماس اور اسلامی جہاد کے درمیان غزہ میں مستقل جنگ بندی کی کوششوں میں گہری بات چیت جاری ہے۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ میں 21 ہزار فلسطینی شہید اور 55 ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔

مصر کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کیا ہیں؟

اقتدار چھوڑنا

غالباً مصری تجاویز میں سب سے نمایاں اور متنازعہ نکتہ حماس کا غزہ میں اقتدار چھوڑنا ہے۔ مصر کے دو سکیورٹی ذرائع نے وضاحت کی کہ قاہرہ نے تجویز پیش کی کہ حماس مستقل جنگ بندی کے بدلے اقتدار چھوڑ دے۔

تاہم حماس اور اسلامی جہاد نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ دونوں ذرائع کے مطابق دونوں تحریکوں کے عہدیداروں نے عوامی طور پر اس معاملے کی تردید کی۔

حماس اور اسلامی جہاد کے رہ نماؤں کا اصرار ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینیوں کو خود کرنا چاہیے۔ بیرونی دباؤ پر نہیں۔

اسرائیل ان دونوں تحریکوں کو تباہ کرنے اور ان کی فوجی اور انتظامی صلاحیتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا دونوں جماعتوں کو اقتدار سے ہٹانے کی تجویز تل ابیب کے مطالبات اور شرائط کو پورا کرے گی یا نہیں؟۔

جنگ بندی کے مراحل

دو سکیورٹی ذرائع کے مطابق مصری تجویز میں مرحلہ وار جنگ بندی شامل تھی۔ ابتدائی مرحلہ ایک یا دو ہفتوں کے لیے عارضی ہو گا اور بعد میں اس کی تجدید کی جا سکتی ہے۔

جبکہ فلسطینی حکام نے عندیہ دیا کہ جنگ بندی تین مراحل میں ہوگی۔

انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے پہلے دس دنوں کے دوران حماس نے اپنے زیر حراست تمام خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو رہا کرنا ہوگا۔

دوسری جانب اسرائیل اسی زمرے کے فلسطینی قیدیوں کی ایک متفقہ تعداد کو رہا کرتا ہے۔ تمام جنگی کارروائیاں روک دی جائیں گی۔ غزہ کی پٹی سے ٹینکوں کو واپس نکال لیا جائےگا۔ خوراک اور طبی امداد، ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کی ترسیل کی اجازت دی جائے گی اور غزہ کے شہریوں کو شمالی حصے میں آنے کی اجازت ہوگی۔

اسرائیلی خاتون فوجیوں کی رہائی

دوسرے مرحلے میں حماس کے زیر حراست تمام اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کرنا شامل ہے۔ بدلے میں اسرائیل فلسطینیوں کے ایک اور گروپ کو اپنی جیلوں سے رہا کرے گا۔

دونوں فریق 7 اکتوبر سے ایک دوسرے کے پاس موجود لاشوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔

ایک مہینے کے لیے

جبکہ جنگ بندی کا تیسرا مرحلہ ایک ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران مذاکرات کے نتائج پر آگے بات کی جائے گی۔ اس میں فلسطینی قیدیوں کی ایک متفقہ تعداد کے بدلے حماس کے زیر حراست تمام قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسرائیل غزہ سے ٹینک بھی واپس نکال لے گا اور دونوں فریق تمام جنگی سرگرمیاں روک دیں گے۔

تاہم عارضی جنگ بندی کے معاملے کو حماس اور اسلامی جہاد نے ابھی تک مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت روکنے اور مستقل جنگ بندی تک اسرائیل کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

دونوں جماعتیں اس بات پر بھی اصرار کرتی ہیں کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کی رہائی ہونی چاہیے۔

غزہ انتظامیہ

اس کے علاوہ جنگ بندی کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالنے کا خیال بھی میز پر رکھا گیا تاہم فلسطینی حکام نے واضح کیا کہ یہ فائل جنگ بندی کی تجویز کا حصہ یا شرط نہیں ہے۔

مصر امداد، غزہ کی تعمیر نو اور نئے قانون ساز انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حماس کے ایک رہنما اسامہ حمدان نے لبنان سے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی کہ حماس کھلے دل سے نمٹنے کے لیے بہت سے خیالات موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں