7 اکتوبر کو غزہ پراسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر جاری میڈیا جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کے اقدامات کو لوگوں نے اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ کیونکہ ان کی وجہ سے الجھن اور تنازعہ جنم لے رہا ہے۔
فوجی افسر نے غزہ میں کھنڈرات پر اپنی شادی کی تاریخ لکھی
حال ہی میں ایک اسرائیلی افسر کی تصاویر پھیلی ہیں جس نے غزہ کی پٹی کے محصور اور تباہ شدہ مکان کی دیوار پر اپنی متوقع شادی کی تاریخ لکھ کر اس کی تصویر کھینچی اور اپنی منگیتر کو بھیج دی۔
الملازم اوشري موشيه من جيش الاحتلا.ل قبل شهر كانت خطوبته، وبعدها على جدار منزل محطم في عًرًة حدد وكتب التاريخ وهو 21/3/2024 ثم التقط صوره ليرسلها لخطيبته رافيد…
— MOATH | معاذ (@M0ATH) December 24, 2023
الشاهد بالقصة ان اوشري ماراح يتزوج ولا بيعيش لهذا التاريخ لانه أمس قتل في عًرًة. pic.twitter.com/6NJFqpEcNc
عربی زبان کے سوشل میڈیا پر صفحات اور اکاؤنٹس نے اس تصویر کو وائرل کیا۔ صارفین نے اسے اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ کیونکہ اسرائیلی فوج کا غزہ کے کھنڈرات پر جشن بے بس فلسطینیوں کا تمسخر اڑانے کی مذموم کوشش ہے۔ سات اکتوبر کے بعد سے جاری جنگ میں اب تک اکیس ہزار سے زاید فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ان اکاؤنٹس میں بتایا گیا ہے کہ تصویر میں دکھے جانے والے فوجی افسر کی شناخت "اوشری موشے" کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ گذشتہ دنوں غزہ میں جھڑپوں کے دوران مارا گیا تھا۔
عرب ویب سائٹس پرگردش کرنے والی اس تصویرمیں ایک سیاہ فام نوجوان دکھائی دے رہا تھا جس میں اسرائیلی فوج کی ملٹری یونیفارم پہنی ہوئی تھی۔ تبصروں سے تصدیق ہوتی ہے کہ یہ تصویر موشے کی تھی اور اس نے کھینچنے کے بعد اپنی منگیتر کو بھیج دیا تھا۔
تاہم اسرائیلی میڈیا اور نیوز سائٹس کے مطابق گردش کی گئی تصویر دراصل کسی اور افسر کی ہے۔
Zvika Neiman نامی اسرائیلی افسر نے غزہ کی پٹی میں ایک گھر کی دیوار پر اپنی آنے والی شادی کی تاریخ لکھ کر یہ تصویر اپنی منگیتر کو بھیجی تھی۔ اس معاملے کا افسر اشری موشے سے کوئی تعلق نہیں تھا جسے حال ہی میں قتل کردیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اس تناظر میں تصویر کا وائرل ہونا غزہ کی پٹی میں شدید لڑائیوں اور جھڑپوں کے تسلسل کے ساتھ سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 27 اکتوبر سے اب تک ان لڑائیوں میں 150 سے زائد فوجی مارے جا چکے ہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ اتوار کو اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل اس جنگ میں بھاری قیمت چکا رہا ہے۔