دمشق اور نجف میں نماز جنازہ کے بعد رضی موسوی کی تہران میں تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی امامت میں آج جمعرات کو شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے سینیر مشیر رضی موسوی کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے نماز جنازہ اداکی۔ اس سے قبل موسوی کی نماز جنازہ شام اورعراق کے شہر نجف میں بھی ادا کی گئی
تھی۔

عراق میں الحشد ملیشیا کے سینکڑوں افراد نے نجف گورنری میں موسوی کے جنازے میں شرکت کی۔ ان کی میت کو آج ایران پہنچایا گیا جہاں جنازے میں شریک افراد ایرانی علماء اور زائرین بھی شامل تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ ایرانی عسکری مشیر رضی موسوی کے قتل کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ ایران جو ابھی تک صدمے کو جذب نہیں کرسکا ہے اپنے ایجنٹوں کی مدد سے مؤثر جواب دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور وعدہ کر رہا ہے کہ موسوی کے قتل کا ضرور بدلہ لیا جائے گا۔

رضی موسوی کی "اہمیت" ان کی وفات اور تدفین تک پوشیدہ رہی، یہاں تک کہ ایران کو ان کے قتل سے جو دردناک دھچکا پہنچا، اس کا بھی اب انکشاف ہوا۔

دمشق میں سیدہ زینب کے علاقے سے عراق میں نجف ، کربلا تک ایران کے شہر مشہد اور پھر تہران میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ قاسم سلیمانی کے بعد موسوی ایران سے باہر مارے جانے والے سب سے سینئر ایرانی رہ نما قرار دیے جاتے ہیں۔

مقتول جنرل نے اپنی نگرانی میں قائم کی جانے والی 108 اور 109 برانچزکے ساتھ ایک لاجسٹک اور مالیاتی سپلائی اور کوآرڈینیشن چینل بنایا جو ایران سے شام اور لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیاروں کی منتقلی کا ذمہ دار ہے۔

اس نے شام میں قدس فورس کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں اور برسوں تک وہاں اپنے دوست سلیمانی سے پہلے کام کیا۔ ان کے فرائض میں مارچ کی تیاری اور پروسیسنگ کی بالواسطہ نگرانی شامل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں