’ہم شدید بھوک اور پیاس کا شکار ہیں‘ جنگ سے تباہ حال غزہ کے بے گھرلوگوں فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی کے مصیبت زدہ عوام کے چونکا دینے والی اور پریشان کن التجائیں کلیجہ چیر دینے کے لیے کافی ہیں۔

غزہ کے عوام جس کرب اور مشکل سے گذر رہے ہیں اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے کیونکہ وہ تین ماہ کے دوران ایسی تباہ کن جنگ سے گذرے ہیں جس کی مثالی پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں میں بھی نہیں ملتیں۔

جنگ سے برباد بے سہارا لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو پانی اور نہ سر چھپانے کو چھت ہے۔ البتہ موت اور قیامت کی ہولناکی ہر طرف ننگا ناچ رہی ہے۔

العربیہ اور الحدث کی کیمرہ ٹیم نے مصیبت زدہ غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کے مصائب کا ایک مختصر احوال بیان کیا ہے۔ کیمرہ ٹیم سے بات کرنے والے ہر شخص نے تقریبا ایک جیسے مسائل کا ذکر کیا۔ سب نے کہا کہ ہم بھوک اور پیاس کی شدت سے مر رہے ہیں۔

ایک فلسطینی خاتون نے کھانے پینے کی کمی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کے مصائب کا ذکر کیا۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ غیر انسانی حالات میں رہتے ہیں جہاں بھوک، پیاس، شدید سردی اور تکالیف ہیں۔

غزہ کی پٹی کے بچوں نے بھی پانی اور خوراک کے حصول کے لیے اپنی مشکلات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے پاس عام انسانی زندگی کی کوئی سہولت میسر نہیں۔

ایک فلسطینی بچے نے بتایا کہ وہ اور اس کا خاندان غزہ میں پانی اور خوراک کے بغیر شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی پٹی میں ایک تباہ کن صورتحال ہے۔تقریباً 2.4 ملین آبادی کا تقریبا 85 فیصد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہے۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے معائنہ کے بعد محدود مقدار میں انسانی امداد کو داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے باشندوں کو امداد کی واضح کمی کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں