اسرائیلی موساد کے سابق سربراہ زوی زمیر کا 98 سال کی عمر میں انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی موساد کی بڑی شخصیت اور سابق سربراہ زوی زمیر کا منگل کے روز 98 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ زوی زمیر نے 1973 میں اسرائیلی حکومت کو عرب اسرائیل جنگ کے حوالے سے پیشگی اطلاع دی تھی مگر زمیر کی اطلاع کو اسرائیلی حکومت نے نظر انداز کردیا اور اسرائیلی جنگ چھڑ گئی ۔ اب اسرائیل کا زمیر بہت ضعیف ہوکر انتقال کر گیا ۔

موساد میں زمیر کی قیادت 1968 سے 1974 تک تھی وہ ایک سابق فوجی جرنیل بھی تھا۔ اس کے انتقال کی خبر موساد نے باضابطہ طور پر جاری کی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوی گیلنٹ نے ضمیر کی موت پر پیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی سلامتی کے لیے اس کا کردار آنے والے کئی برسوں تک یاد رہے گا ۔

واضح رہے زوی زمیر کی مصر اور شام کی لڑائی کے دوران موساد کا سربراہ تھا اسے یہ بعد ازاں بڑا قلق رہا کہ کس طرح ایک سینیئر افسر نے اسے جنگ کے حوالے سے ایک بہت بڑی اطلاع دی کہ مصر اور شام کی طرف سے اسرائیل پر بڑا حملہ ہونا والا ہے لیکن ملیٹری انٹیلیجنس نے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ یہ ہمیں دھوکا دیا جا رہا ہے ۔ جس کہ نتیجے میں بعد ازاں اسرائیلی حکومت مصر اور شام کا مقابلہ کرنے کے کیے زیادہ اچھی تیاری نہ کرسکی۔

اس اطلاع کے کچھ ہی گھنٹے بعد ہی مصر اور شام نے اسرائیل پر حملہ کر دیا اور اسرائیل پر چڑھ دوڑے لیکن انہیں جوابی حملے کے دوران واپس دھکیل دیا گیا۔

اسرائیلیوں کے لیے یہ مصر اور شام کا حملہ ایک صدمے کا سبب بنا ایسے ہی جیسے 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اچانک حملہ کر کے اسرائیلیوں پر ایک صدمہ طاری کردیا ۔

اسرائیلی موساد کے سربراہ ڈینی یاتوم نے زمیر کی موت پر اپنے بیان میں کہا ہے کی زمیر یہ ملامت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا کہ اگر بطور موساد سربراہ وہ زیادہ طاقتور ہوتے تو 1973 میں اسرائیل پر حملہ نہ ہوتا یہ بات زمیر کو ساری زندگی اندر سے جلاتی

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں