سعودی عرب کے وزیر خزانہ نے سال 2024 کے منصوبے کے لیے رقم مستعار لینے کی منظور دی ہے۔ تاکہ 2024 کے دوران 22،93 ارب ڈالر کے تخمینے کے تحت ضروریات پوری کی جاسکیں۔ یہ بات سعودی ادارے ' نیشنل ڈیبٹا مینجمنٹ سینٹر' (این ڈی ایم سی) نے جمعرات کو بتائی ہے۔
واضح رہے سعودی عرب دنیا میں سب سے بڑی تیل برآمد کرنے والی سب سے نمایاں مملکت ہے۔
تاہم نئے مالی سال کے لیے 2024 میں 79 بلین ریال کے بجٹ خسارے کی پیش گوئی کی ہے، جو پچھلے سال کے 82 بلین ریال کے خسارے سے تھوڑا کم ہے۔ کیونکہ خام تیل کی پیداوارمیں کمی اور تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاو کی وجہ سے سعودی آمدنی میں قدرے کمی ہوئی ہے۔
لیکن حکومت نے وژن 2030 کے حوالے سے معاشی تبدیلی کے پروگرام کو نافذ کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اس وجہ سے آئندہ برسوں کے دوران تیل کے بغیر شرح نمو کو مدد دینے کے لیے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گا۔۔
نیشنل ڈیٹا مینجمنٹ سنٹر کے مطابق' قرض لینے کے منصوبے سے بجٹ کے خسارے اور آئندہ قرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ملکی انتظام کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر مارکیٹوں کو موقع پرستانہ طور پر استعمال کرنے کی توقع ہے۔
-
سعودی عرب کی ’قیصریہ مارکیٹ‘ قومی ورثے کی صدیوں پرانی یادگار
واقعات اور حالات کے ساتھ کہانیاں اور لوک داستانیں تاریخ کے بہت سے پہلو زندہ رکھتی ...
مشرق وسطی -
دنیا سے بہت بہت بلندی پر: ہسپانوی ہوائی غبارے کے پائلٹ کی سعودی عرب کے العلا پر پرواز
العلا پر پرواز کرنا ہمیشہ زندگی کے مقاصد میں شامل رہا ہے: پائلٹ
مشرق وسطی -
کون کیا ہے: شہزادی حیفہ آل مقرن، اسپین میں سعودی سفیر
شہزادی حیفہ آل مقرن کو حال ہی میں اسپین میں سعودی عرب کی سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ ...
مشرق وسطی