غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے سانحات موت سے کم نہیں ہیں اور تقریباً تین ماہ سے جاری پرتشدد اسرائیلی حملوں میں غزہ کی باشندوں کی مشکلات میں لامتناہی اضافہ ہو رہا ہے۔
رفح میں ریت کے ٹیلوں کے علاقے، کھیتوں، مرکزی اور اطراف کی گلیوں، سڑکوں اور تمام عوامی چوراہوں اور خالی جگہوں پر بے گھر لوگوں کے خیموں کی بستیاں دکھائی دیتی ہیں، جن میں غزہ کے تمام حصوں سے پٹی کے جنوب میں واقع شہر کی طرف آنے والے کمسپرسی کے حالات میں زندگی کے دن گذارنے پر مجبور ہیں۔
وسطی غزہ اور خان یونس شہر پر اسرائیل کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
زیادہ تر خاندان ہلکے نائیلون اور لکڑی کے کھمبوں سے بنے خیمے لگاتے ہیں۔ بہترین صورتوں میں ٹین بورڈ، کچھ بیرونی اور مقامی انسانی ہمدردی کے ادارے محدود تعداد میں خیمے مہیا کرتے ہیں جن میں کچھ پانی کے ٹینک اور عوامی بیت الخلاء ہوتے ہیں، لیکن وہ بہت کم ہیں اور بے گھر لوگوں کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔
مکسار کے ذریعہ شائع کردہ سیٹلائٹ تصاویر اس علاقے میں بھیڑ کی حد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مصر کی سرحد کے قریب واقع رفح اپنے اوپر پھیلے خیموں کے جنگل میں تبدیل ہو گیا ہے۔
#Gaza | El proveedor de imágenes satelitales Maxar publicó una nueva imagen que muestra un aumento de la población en la región de Rafah en el sur de #Gaza, a medida que la gente se traslada a la zona desde las partes central y norte del territorio.#NewsOnDemand pic.twitter.com/YKSMb7acJP
— News On Demand (@OnDemand_News) January 6, 2024
انہیں زبردستی بے گھر کیا گیا
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) نے سنیچر کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ تقریباً 90 فیصد آبادی کو جبری نقل مکانی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے پاس ہر چیز کی کمی ہے۔
ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں اونروا نے غزہ کو فوری امداد فراہم کرنے اور جاری جبری نقل مکانی کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کے خطرات ہیں اور کوئی جگہ محفوظ نہیں بچی۔
اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈی نیٹر مارٹن گریفیتس نے کل جمعہ کو کہا تھا کہ غزہ موت اور مایوسی کا مرکز بن چکا ہے۔ سیوریج کے لیک ہونے سے پناہ گاہوں میں متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔