عرب مکسڈ مارشل آرٹس کے کھلاڑی دنیا بھر کے بہترین جنگجووں میں شامل ہونے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے عبداللہ القحطانی نے کہا ہے کہ عرب دنیا کے مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر دنیا بھر میں بہترین جنگجووں کے طور پر جانے جانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

پچیس سالہ عبداللہ القحطانی نے مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر بننے کے لیے سنجیدگی سے تربیت لینا شروع کی تو لوگوں کا خیال یہی تھا کہ وہ سعودی عرب یا دنیا کے کسی بھی ملک میں پیشہ وارانہ کوئی خاص کام نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ کراٹے اور تائیکوانڈو جیسے مقبول کھیلوں کے برعکس بہت کم لوگوں نے سعودی عرب میں ایم ایم اے کی پریکٹس کی۔ مگر جنھوں نے یہ پریکٹس کی انھوں نے پھر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جیسا کہ حالیہ برسوں میں یہ لہر یکسر بدلے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔

القحطانی نے کہا جب میں نے یہ کھیل کھیلنا شروع کیا تو یہ زیادہ مشہور نہیں تھا اور لوگوں کو نہیں معلوم تھا کہ اس کھیل میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں۔

العربیہ کو دیے گئے انٹرویو میں ایم ایم اے کے جنگجو کا کہنا تھا کہ جب میں اس بارے میں لوگوں کو بتاؤں گا تو وہ سمجھیں گے کہ کامیاب ہونا غیرممکن ہے۔ لیکن اب یہ دیکھتا ہوں کہ کچھ برسوں میں چیزیں بالکل بدل گئی ہیں۔ کیونکہ سعودی عرب نے اپنے ہاں مختلف کھیلوں کی میزبانی کرنا شروع کر دی ہے اور سعودی عرب اس کھیل کو جس سنجیدگی سے لے رہا ہے اس کا اندازہ دنیا کو بھی ہوگیا ہے۔

القحطانی کے بقول ایم ایم اے پوری دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا کھیل ہے۔ اس کی مقبولیت میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران بہت اضافہ ہوا ہے۔ سعودی کھیلوں کی سرمایہ کرنے والی ایس آر جے سپورٹس نامی کمپنی نے اس سلسلے میں حصص بھی خریدے ہیں۔

پی ایف ایل نے 2024 میں مشرق وسطیٰ میں ایک نئی لیگ شروع کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ القحطانی کے مطابق یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ میں اس کھیل اور اس کے کھلاڑیوں کو سنجیدہ توجہ مل رہی ہے۔

پی ایف ایل کی طرف سے لیگ کے آغاز کا مشرق وسطیٰ کے لوگ شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ اب اس سال یہ ان کی سامنے ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں