ایرانی پاسداران انقلاب کا عراق میں اسرائیلی جاسوسی ہیڈ کوارٹر پر حملے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے عراقی کرد علاقے میں قائم کیے گئے اسرائیل کے جاسوسی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ اس علاقے کو کردوں کا نیم خود مختار علاقہ کہا جاتا ہے۔ ایران کی ایلیٹ فورس نے اسی طرح کے داعش پر شام میں ایک حملے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی پاسدران انقلاب نے اپنے مقتول جنرل سلیمانی کے مزار کے قریب دو دھماکوں کے نتیجے میں تقریباً ایک سو افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے ان انتقامی حملوں کو پیر کو رات دیر سے رپورٹ کیا ہے۔

ایرانی شہر کرمان میں یہ دو دھماکے غزہ میں ایران کی اتحادی حماس کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کے دوران رواں ماہ کے شروع میں کیے گئے تھے، ایرانے کے حامی لبنان، شام ، عراق اور یمن میں ہر جگہ سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے' یہ حملہ صہیونی مظالم کے خلاف کیا گیا ہے، جو مقتول کمانڈروں کی ہلاکت کا باعث بنے ۔ اس لیے موساد کے ایک بڑے جاسوسی مرکزکو بلیسٹک میزائلوں سےعراق میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس بارے میں اسرائیلی حکومت کے حکام نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس لیے رائٹرز نے بھی اپنے آزادانہ ذرائع سےایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ وجہ سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی اس کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم ایرانی پاسداران نے ابھی مزید بدلے کا کہا ہے۔

پاسداران نے اپنے بیان میں کہا گیا ہے 'ہم اپنی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ گارڈز کی جارحانہ کارروائیاں شہداء کے خون کے آخری قطروں کا بدلہ لینے تک جاری رہیں گی۔'

کردستان کے دارالحکومت اربیل کے شمال مشرق میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایک رہائشی علاقے میں حملوں کے علاوہ پاسداران نے کہا کہ انہوں نے "شام میں متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے اور ایران میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکب افراد کو ہلاک کر دیا ہے، اس میں داعش کے ٹھکانے بھی شامل ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں