عراق نے ایران کے ساتھ سکیورٹی معاہدے معطل کرنے کی دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزیر دفاع ثابت العباسی نے زور دے کر کہا ہے کہ کردستان کے علاقے پر ایرانی بمباری کی مذمت اور اسے دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عراقی کردستان کے وزیر اعلیٰ نے میزائل حملوں پراحتجاجاً ڈیووس میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات منسوخ کر دی۔

ثابت العباسی نے العربیہ اورالحدث کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ یہ حملے ایران کے ساتھ سکیورٹی معاہدے سے متصادم ہیں جسے معطل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے اربیل میں جاسوسی کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے پاس موجود معلومات عراقی حکام کو تصدیق کے لیے فراہم کرنا ہوں گی۔

عراق سے بین الاقوامی اتحادی افواج کے انخلاء کے شیڈول کے بارے میں عراقی وزیر دفاع ثابت العباسی نے کہا کہ اس کا مطالعہ آپریشن کے میدان اور فوج کی تیاری کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا واشنگٹن نے مسلح دھڑوں کے حملوں کو روکنے کی درخواست کی تھی تاکہ اس واقعے کو دوبارہ دیکھا جا سکے۔

عراق نے اربیل شہر پر پاسداران انقلاب کے حملے کے حوالے سے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف شکایت پیش کی ہے۔

عراقی وزیراعظم کے مشیر نے العربیہ کو خصوصی بیان میں کہا کہ اربیل پر ایرانی بمباری سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہے۔

عراقی وزیراعظم کے مشیر نے نشاندہی کی کہ اربیل پر ایرانی بمباری سے نہتے شہری مارے گئے۔ ایران نے اربیل پر حملے سے پہلے ہمیں مطلع نہیں کیا۔

عراقی کردستان کے علاقے کے وزیر اعلیٰ مسرور بارزانی نے منگل کے روز ایران پر الزام لگایا کہ وہ نیم خود مختار علاقے کے دارالحکومت پر شروع کیے گئے حملوں میں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے اس علاقے میں اسرائیلی جاسوس کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔

حملے کے بعد ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اپنے بیانات میں بارزانی نے زور دے کر کہا کہ ایرانی الزامات بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک سےامریکی افواج کے انخلا کے لیے موجودہ وقت مناسب نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں