گذشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے جس میں اسرائیلی فوجیوں کوغزہ میں قدیم نوادرات پر مشتمل ایک گودام پر دھاوا بولنے کے بعد دکھایا گیا ہے۔
اسرائیلی نوادرات پرکام کرنے والی تنظیم ’عمق شبیہ‘ کے مطابق ویڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کو برتنوں سے بھرے ایک گودام کے اندر دکھایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پرپھیلنےوالی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے تنظیم نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں آثار قدیمہ کے ایک مقام پر موجود تھے۔ ان کے ساتھ اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کا ایک ملازم بھی تھا۔
اگرچہ ویڈیو سے غزہ میں اس جگہ کا مقام واضح نہیں ہے۔ تاہم اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایلی ایسکوسیڈو نے اتوار کو اسے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا۔
سیکڑوں آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی تباہی
’عمق شبیہ‘ نے کہا کہ"اسرائیلی نوادرات کی اتھارٹی کے ڈائریکٹر کی ایک پوسٹ میں ایسا لگتا ہے کہ ان کے نائب کو غزہ میں نوادرات کا معائنہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ڈائریکٹر نے ان نوادرات کو قبضے میں لینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'حیرت انگیز'قرار دیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان نوادرات کے حوالے سے اتھارٹی کے کیا عزائم ہیں"۔
1. In a post by the Director of the Israel Antiquities Authority showing his deputy was sent to examine antiquities in Gaza, the director celebrated the "discovery" of a collection with a "wow". While it is not yet known what the Authority's intentions regarding pic.twitter.com/DNhx3Yklgo
— Emek Shaveh (@EmekShaveh) January 21, 2024
تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران آثار قدیمہ اور تاریخی اہمیت کے حامل سیکڑوں مقامات کو تباہ کیا گیا ہے۔ اس پر جشن منانے کی ضرورت نہیں۔
تنظیم نے مزید کہا کہ "ریاست اسرائیل کوغزہ میں نوادرات کے ایک بھی ٹکڑے پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جو بھی ہے غزہ کے لوگوں کا ہے‘‘۔
اسرائیلی نوادرات اتھارٹی کی وضاحت
’عمق شبیہ‘ نے کہا کہ اس کی طرف سے ٹویٹس کے بعد اسرائیلی نوادرات اتھارٹی نے ان سے رابطہ کیا اور اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے غزہ میں نوادرات کی جگہ کےدورے کے بارے میں وضاحت کی۔
اسرائیلی نوادرات اتھارٹی نے کہا کہ فوج نے ان کے ادارے سے کہا تھا کہ وہ غزہ میں ایک گودام کا معائنہ کرے جس میں قدیم نوادرات ہیں، یا ایسے نمونے جو قدیم معلوم ہوتے ہیں وہاں موجود ہیں"۔
نوادرات اتھارٹی نے مزید کہا کہ "ایک ماہر آثار قدیمہ (جس کا اس نے نام نہیں بتایا) کی طرف سے ابتدائی جانچ کرائی گئی۔اس کی مقررہ وقت پر اسرائیلی فوج کو ایک تحریری رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اسرائیلی فوج اس مقام پر موجود نوادرات کی حفاظت کرے گی۔
غزہ میں 200 سے زائد آثار قدیمہ اور ورثے کے مقامات تباہ
قابل ذکر ہے کہ غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ 7 اکتوبر سے پٹی پر جاری جنگ کے ایک حصے کے طور پر پٹی کے 325 مقامات میں سے 200 سے زائد آثار قدیمہ اور ورثے کے مقامات کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔
21 نومبر 2023ء کو انسانی حقوق گروپ یورو- میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ میں فلسطینی آثار قدیمہ کو تباہ کر رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ انسانی ثقافتی ورثے کو واضح طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
آبزرویٹری نے اس وقت ایک بیان میں اشارہ کیا تھا بین الاقوامی انسانی قانون ہر حال میں ثقافتی اور مذہبی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی ممانعت کرتا ہے۔
-
غزہ جنگ کے واقعات نسل کشی کا اشارہ دیتے ہیں:ایمنسٹی
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری 3 ماہ سے زیادہ دنوں سے جاری رہی اور شہریوں کی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل اور حماس کی جنگ کے درمیان غزہ چھوڑ رہا ہوں: فلسطینی صحافی معتز عزایزہ
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ معتز عزایزہ نے منگل کو ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں اعلان کیا کہ ...
مشرق وسطی -
قاتلانہ حملے کے جواب میں حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی اڈے پربمباری
العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق منگل کو اسرائیلی فوج کی شمالی کمان کے ...
مشرق وسطی