ایرانی ڈیزائنرز رنگ اور خواتین کے لیے سخت لباس کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیاہ لباس سے ہٹ کر ایرانی ڈیزائنرز چمکدار رنگوں کی حمایت کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور خواتین کے لیے اسلامی جمہوریہ کے سخت ضابطۂ لباس کے درمیان درست توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

22 "سالہ ڈیزائنر ہادیس حسن لو نے تہران کے تاریخی سعد آباد محل میں ایک فیشن نمائش میں اے ایف پی کو بتایا، "ایک نوجوان خاتون کے طور پر میں جدید ڈیزائن کے روشن رنگوں والے کپڑے منتخب کرتی ہوں۔

1979 کے ایرانی انقلاب کے فوراً بعد سے ایران میں خواتین کو ضابطۂ لباس کی سخت پابندی کرنی پڑتی ہے اور سر اور گردن کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے ہوتے ہیں۔

سڑکوں پر نکلتے وقت کئی خواتین سر سے پاؤں تک سیاہ چادروں کا انتخاب کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں ایرانی ڈیزائنرز نے بھی اپنی تخلیقات میں روشن رنگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

نمائش میں جہاں تقریباً 50 ملبوسات نمائش کے لیے پیش کیے گئے تھے، ان میں نئے ڈیزائن میں سیاہ چادروں سے لے کر پھولوں کی طرز کے لمبے لباس اور کمر سے تنگ کوٹ تک سب کچھ شامل تھا۔

"ڈیزائنر سناز سرپرستی نے کہا، ’’ڈیزائن کرتے وقت میں سب سے پہلے معاشرے کے طریقوں اور اصولوں کو مدنظر رکھتی ہوں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے رنگین ڈیزائنوں کا مقصد نوجوان ایرانی خواتین میں بڑھتے ہوئے رجحانات کو برقرار رکھنا ہے۔

"سرپرستی نے کہا، وہ "جس طرح کا اور جو لباس پہنتی ہیں اس میں زیادہ آزاد، زیادہ جدید اور زیادہ اپ ٹو ڈیٹ ہونا چاہتی ہیں۔

ستمبر 2022 میں مہسا امینی کی زیرِ حراست موت کے بعد ملک گیر احتجاج کے بعد سے خواتین کے لیے لباس کا سخت ضابطہ گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

22 سالہ ایرانی کرد امینی کو ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مظاہروں کے دوران کئی خواتین مظاہرین نے اپنے سر سے اسکارف اتار دیئے یا جلا دیئے۔ دوسروں نے تیزی سے لباس کے قوانین کی خلاف ورزی اور ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں حکام نے سخت کریک ڈاؤن کیا۔

سخت اصول

ڈیزائنرز کہتے ہیں کہ روشن رنگوں کی طرف تبدیلی آسان نہیں ہے خاص طور پر اس لیے کہ کئی خواتین اب بھی گہرے رنگوں سے چپکی رہتی ہیں۔

"افشین پارسائی نے کہا، "معاشرتی اصول اور ملکی ضوابط اکثر گہرے رنگوں کا تقاضہ کرتے ہیں۔

"ڈیزائنر نے کہا، "ہمیں اب بھی انہیں تیار کرنا پڑتا ہے۔

سر اور گردن کو ڈھانپنے والے حجاب کے علاوہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے سیاہ، لمبی یونیفارم پہننا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں