امریکی افواج کے عراق میں جرف الصخر اور القائم میں الحشد الشعبی کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے چند گھنٹے بعد ایک مسلح ڈرون نے شمالی عراق میں اربیل ہوائی اڈے کے قریب ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، جب کہ مسلح عراقی دھڑوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کی خبر کے مطابق دو عراقی ذرائع نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ ایک مسلح ڈرون نے اربیل ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے مسلح دھڑوں نے ایک ہی دن میں تین اڈوں پر ڈرون اور میزائلوں سے حملے کی ذمہ داری قبول کی جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے عراق میں حزب اللہ بریگیڈز اور دیگر عراقی مسلح گروپوں کے زیر استعمال تین تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
عراق کی مذمت
دریں اثنا ان امریکی حملوں نے عراقی حکومت کو ناراض کردیا۔ بغداد حکومت نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئےانہیں ملک کی خودمختاری پر حملہ اور عراقی کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔
مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان یحییٰ رسول نے بھی اسے ملک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور برسوں کے تعاون کو نقصان پہنچانے کا ایک "واضح عزم" قراردیا۔
الحشد الشعبی فورسز کے سرکردہ رہ نما ہادی العمیری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں تمام غیر ملکی افواج کو نکالنے کے لیے اقدامات کریں۔