ایران نے شام اور عراق میں مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پرگذشتہ شب کیے گئے امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ نے شام اور عراق میں ایران نواز عسکری گروپوں کے 85 ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
آج ہفتے کے روز اپنے بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی حملے عراق اور شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اس حملے کوخطرناک اور سٹریٹجک امریکی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا باعث بنے گی۔
ادھر شام کی وزارت دفاع اور بغداد میں حکومت کی طرف سے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
کم از کم 16 ہلاک
عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی نے اعلان کیا کہ شام کے ساتھ سرحد کے قریب ایران نواز عراقی دھڑوں کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے والے امریکی فضائی حملوں میں عام شہریوں سمیت کم از کم 16 افراد مارے گئے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے جارحانہ کارروائی اور عراق اور خطے کی سلامتی کو تباہی کے دھانے پر لانے کا باعث بنے گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ "امریکہ نے اس جارحیت کے ارتکاب کے لیے بغداد کے ساتھ پیشگی رابطہ کاری کےحوالے سے جھوٹا بیان دیا ہے‘‘۔
’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے پہلے اطلاع دی تھی کہ حملوں میں 18 افراد ہلاک ہوئے، جن میں مسلح دھڑوں کے 15 جنگجو اور تین عام شہری شامل ہیں۔
-
غزہ میں 27131 فلسطینی ہلاکتیں، نقل مکانی کے بہاؤ سے رفح 'پریشر ککر' بن گیا: یو این
انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے شعبے نے بدترین جنگ کے شکار جنوبی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل نے غزہ جنگ میں حد سے تجاوز کیا: 50 فیصد امریکیوں کا سروے میں جواب
70 فیصد امریکیوں کے مطابق وہ بائیڈن کی اسرائیل کے حوالے سے پالیسیوں کے حق میں نہیں
بين الاقوامى -
غزہ میں 17 ہزار بچے والدین سے جدا ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ
بعض بچوں کے والدین اور بعض کے تمام رشتہ دار جاں بحق ہو چکے ہیں
بين الاقوامى