غزہ کے باشندے دنیا کے سامنے مر رہے ہیں: ’اونروا‘ کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ چار ماہ سے جاری خوفناک جنگ میں غزہ کی پٹی ایک غیر معمولی تباہی کاسامنا کر رہی ہے۔

’اونروا‘ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ غزہ کی پٹی کے رہائشی "دنیا کی نظروں کے سامنے مر رہے ہیں"۔

اسرائیلی الزامات

قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل اسرائیل نے ’اونروا‘ کے متعدد ملازمین پر 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

ان الزامات کے بعد ریلیف ایجنسی نے متعدد ملزم ملازمین کو برطرف کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

دریں اثنا امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے اسرائیلی الزامات کے بعد عارضی طور پر ایجنسی کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا ہے۔

اونروا کا فروری کے آخر تک آپریشنز بند کرنے کا اعلان

جمعرات کو’اونروا‘ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے فنڈز نہ ملے تو اسے اس فروری کے آخر تک غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیاں روکنا پڑ سکتی ہیں۔ اس نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "اگر فنڈنگ معطل رہتی ہے تو ہمیں فروری کے آخر تک اپنے کاموں کو روکنا پڑے گا"۔

دریں اثنا جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ماہرین نے ’اونروا‘ کے لیے فنڈنگ معطل کرنے کے متعدد ممالک کے فیصلے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے "تباہ کن حالات زندگی" کو مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔

ہزاروں اموات

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا۔ غزہ کے اطراف میں کیے گئے اس حملے میں تقریباً 1,140 اسرائیلی مارے گئے تھے۔ ان میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

اس دوران حماس نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کردیا تھا۔ اس کے بعد غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 27,238 فلسطینی لقمہ اجل ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں