اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ چار ماہ سے جاری خوفناک جنگ میں غزہ کی پٹی ایک غیر معمولی تباہی کاسامنا کر رہی ہے۔
’اونروا‘ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ غزہ کی پٹی کے رہائشی "دنیا کی نظروں کے سامنے مر رہے ہیں"۔
اسرائیلی الزامات
قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل اسرائیل نے ’اونروا‘ کے متعدد ملازمین پر 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔
ان الزامات کے بعد ریلیف ایجنسی نے متعدد ملزم ملازمین کو برطرف کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
دریں اثنا امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے اسرائیلی الزامات کے بعد عارضی طور پر ایجنسی کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا ہے۔
اونروا کا فروری کے آخر تک آپریشنز بند کرنے کا اعلان
جمعرات کو’اونروا‘ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے فنڈز نہ ملے تو اسے اس فروری کے آخر تک غزہ کی پٹی میں اپنی کارروائیاں روکنا پڑ سکتی ہیں۔ اس نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ "اگر فنڈنگ معطل رہتی ہے تو ہمیں فروری کے آخر تک اپنے کاموں کو روکنا پڑے گا"۔
دریں اثنا جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ماہرین نے ’اونروا‘ کے لیے فنڈنگ معطل کرنے کے متعدد ممالک کے فیصلے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے "تباہ کن حالات زندگی" کو مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔
ہزاروں اموات
قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا۔ غزہ کے اطراف میں کیے گئے اس حملے میں تقریباً 1,140 اسرائیلی مارے گئے تھے۔ ان میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
اس دوران حماس نے تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کردیا تھا۔ اس کے بعد غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 27,238 فلسطینی لقمہ اجل ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
-
جنگ غزہ کے متاثرین کے لیے پاکستان سے امدادی سامان کی پانچویں کھیپ روانہ
فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا شکار مظلوموں کے لیے پاکستان سے ...
پاكستان -
غزہ: اسرائیلی فوج کے خالی کردہ علاقوں میں حماس کی حامی پولیس کی تعیناتی شروع
حماس کے زیر کنٹرول غزہ کے علاقوں میں غزہ کی فلسطینی پولیس کی تعیناتی از سر نو شروع ...
مشرق وسطی -
غزہ میں 17 ہزار بچے والدین سے جدا ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ
بعض بچوں کے والدین اور بعض کے تمام رشتہ دار جاں بحق ہو چکے ہیں
بين الاقوامى