امریکی فوج کے یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر مزید میزائل حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں مزید آلات اور میزائل مارے ہیں جو بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کے خلاف گولہ بارود داغنے کے لیے تیار تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حملے ہفتے کے روز شام 4:00-5:00 بجے (1300-1400 جی ایم ٹی) کے درمیان حدیدہ شہر کے شمال میں ہوئے۔

بیان میں کہا گیا، "امریکی افواج نے بغیر پائلٹ کے سطح پر چلنے والے دو جہازوں اور تین موبائل جہاز شکن کروز میزائلوں کے خلاف کامیابی سے دفاعی حملے کیے ... جو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کے خلاف داغنے کے لیے تیار تھے۔"

حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی ویژن نے ہفتے کی رات کو سلیف بندرگاہ کے علاقے پر تین حملوں کی اطلاع دی جبکہ علاقے میں اے ایف پی کے ایک نمائندے نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

یہ حملے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے حوثیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے سلسلے کا حصہ ہیں جس کا مقصد بحیرہ احمر کی اہم جہاز راں گذرگاہ پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے بار بار حملوں کو روکنا ہے۔

جمعرات کو امریکہ کی طرف سے سابقہ اعلان کہ اس نے میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا، کے بعد ہفتے کے روز حوثیوں نے تصدیق کی کہ حالیہ حملوں میں ان کے 17 مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔

حدیدہ کی بندرگاہ سمیت جنگ زدہ یمن کے بیشتر حصے پر قابض حوثی باغیوں نے نومبر میں یہ کہہ کر حملے شروع کیے کہ غزہ میں جو فلسطینی اسرائیل اور حماس کی جنگ سے تباہ ہو چکے ہیں، وہ ان کی حمایت میں اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

امریکی اور برطانوی افواج نے حوثیوں کے خلاف حملوں کا جواب دیا ہے جنہوں نے اس کے بعد سے دونوں ممالک کے مفادات کو بھی جائز اہداف قرار دیا ہے۔

منگل کو حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں دو حملوں میں امریکی اور برطانوی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے معمولی نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بحیرۂ احمر کے حملوں کی وجہ سے جہاز راں کمپنیوں کے لیے انشورنس پریمیم میں اضافہ ہوا ہے جس نے کئی کمپنیوں کو بحیرۂ احمر سے گریز پر مجبور کیا ہے جو عموماً عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 12 فیصد لے جانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں