سعودی عرب میں شدید بارش میں تدریسی عمل معطل محکمہ موسمیات کی وارننگ

وادیوں اور چٹانوں سے بہتے پانی کے دوران انہیں عبور کرنے پر 10,000 ریال تک کا جرمانہ کی سزا مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے تدریسی عمل معطل کیا گیا ہے جب کہ شہری دفاع نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پانی کے ریلوں کے گذرنے کے مقامات، وادیوں اور گھاٹیوں کے سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ موسمیات نے بھی بارش سے متاثرہ مقامات میں غیرضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے

دوسری جانب سوشل میڈیا کے ذریعے والدین نے’ہر ممنوع چیز مرغوب ہوتی ہے‘ کے سلوگن کی طرف متوجہ کیا ہے۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے ایک طرف اسکولوں میں تعطیل کی گئی ہے جب کہ دوسری جانب لوگ بالخصوص طلباء بارش سے لطف اندوز ہونے کے لیے وادیوں کا رخ کرتے ہیں اور خود کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

اس حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کئی کہانیوں کا جائزہ لیا، جن میں بارش میں سیر کے لیے باہر جانے یا وادیوں کی گہرائیوں کے قریب جانے کے نتیجے میں خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا۔

بارش کے دوران طوفانی بارش کے دوران ایک خاندان خطرے سے دوچار ہے۔
بارش کے دوران طوفانی بارش کے دوران ایک خاندان خطرے سے دوچار ہے۔

پچھلے سال ان دنوں جنوبی سعودی عرب کے علاقے جازان میں صبیا گورنری کے گاؤں مشلحہ میں طوفان کے باعث 4 بچے ڈوبنے سے جاں بحق جب کہ ان کے والد زخمی ہو گئے تھے۔ کچھ لوگوں نے ان کی کار کے ڈوبنے کی ویڈیو بنائی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کار کو بہتے ریلے میں لے جایا گیا تھا۔

تبوک میں "ایکس" پلیٹ فارم پرصارفین نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ سیلاب نے ایک کار کو موسلا دھار بارشوں کے بعد بہا دیا، جبکہ دو افراد سیلاب میں بہہ کر ڈوب گئے۔

درایں اثناء سعودی ٹریفک نے وضاحت کی کہ وادیوں اور چٹانوں کو عبور کرنے کے دوران وہ بہتے ہوئے ہیں پانی سے گذرنا ایک سنگین رویہ ہے جو آپ کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اسے ٹریفک کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہےاور ایسی خلاف ورزی پر 5,000 سے 10,000 ریال تک جرمانہ کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں