فریم ورک معاہدہ لبنانی سرزمین پر اسرائیلی فوج کے قیام کو قانونی حیثیت نہیں دیتا : عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

لبنانی صدر جوزف عون نے باور کرایا ہے کہ امریکہ کے زیر نگرانی اسرائیل کے ساتھ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ، لبنانی سرزمین پر اسرائیلی فوج کے قیام کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے کا مقصد اسرائیلی انخلا کے بعد لبنانی فوج کو پوری لبنانی سرزمین پر اپنی عمل داری قائم کرنے کے قابل بنانا ہے۔

صدر عون نے آج جمعے کے روز لبنانی جامعات کی انجمن، لبنانی ڈاکٹرز یونین اور لبنانی مارونی راہبوں کے وفود سے ملاقات کے دوران کہا کہ "فریم ورک معاہدے کی شقیں لبنان میں اسرائیلی قبضے کے قیام کو قانونی حیثیت نہیں دیتیں، بلکہ یہ لبنانی فوج کو پوری لبنانی سرزمین پر اپنا کنٹرول بڑھانے کے قابل بنانے پر زور دیتی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی فوج "اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد جنوب میں امن و استحکام کے قیام میں اپنی پوری ذمہ داریاں نبھائے گی"۔ ساتھ اس بات پر زور دیا کہ فوجی ادارہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں لبنانی عوام کا اعتماد حاصل رکھتا ہے۔

مزید برآں صدر عون نے کہا کہ ایران-امریکہ راستے سے اپنے راستے کو الگ کرنے کا ملک کا فیصلہ ایک "خود مختار فیصلہ" ہے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ نقطہ نظر ان فریقین کے اعتراضات کو جنم دیتا ہے جو "کسی کی سرپرستی میں رہنے، ان کے کنٹرول میں رہنے، ان کے فیصلوں کے تابع رہنے اور ان کے نام پر مذاکرات کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔"

عون نے یہ بھی اشارہ کیا کہ لبنان ایک "جمہوری ملک ہے جو رائے کی آزادی کا احترام کرتا ہے،" تاہم انہوں نے "سرخ لکیریں" عبور کرنے سے خبردار کیا، جن میں سرِفہرست فتنے کو ہوا دینا یا سڑکوں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔

جاری مذاکرات کے دفاع میں عون نے کہا کہ "طاقت جنگ لڑنے یا اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کی صلاحیت میں نہیں، بلکہ اسے ختم کرنے کے حوصلے میں ہے"... اور انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ مذاکرات "خون بہائے بغیر ایک سفارتی جنگ" کی نمائندگی کرتے ہیں۔

لبنانی صدر کا یہ بیان بیروت اور تل ابیب کے درمیان گذشتہ ہفتے امریکہ کی نگرانی میں دستخط کیے گئے فریم ورک معاہدے پر جاری داخلی بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس کا مقصد لبنانی محاذ پر تصادم کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ عون نے گذشتہ جمعرات کے روز زور دیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات "خیانت نہیں،" بلکہ اس کا مقصد لبنانی سرزمین سے اسرائیلی فوج کا انخلا یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ لبنان "اپنی سرزمین کے ایک انچ سے بھی دست بردار نہیں ہو گا۔"

واضح رہے کہ فریم ورک معاہدے کے تحت لبنانی فوج، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حزب اللہ تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ، ملک کے جنوب میں بتدریج سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گی، جبکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کا تعین ایک سکیورٹی ضمیمے میں کیا جائے گا جس کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہیں۔

اس کے برعکس اسرائیل اب بھی اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ وہ جنوب لبنان میں اپنے زیر انتظام "سکیورٹی زونز" میں اپنی افواج کو اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک کہ اس کے بقول حزب اللہ کا خطرہ ختم نہ ہو جائے۔ لبنان اس موقف کو مسترد کرتا ہے اور معاہدے کے مطابق اپنی سرزمین سے مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں