میراتھن دوڑمیں شامل ننھے معذورہیرو کے لیے سعودی وزارت کھیل کی طرف سے اعزاز

حمد شبانہ کو واکنگ اسٹک میراتھن میں شرکت سے محروم نہ رکھ سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حال ہی میں سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں بین الاقوامی میراتھن ریس میں شرکت کرنے والے ایک معذور بچے کومملکت کی وزارت کھیل کی طرف سے اعزاز سے نوازا ہے۔

سعودی وزیرکھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے ننھے حمد شبانہ کی جسمانی عارضے کے باوجود میراتھن میں شرکت کے جذبے کو سراہا اور اسے’ہیرو‘ قرار دیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں ہونے والی میراتھن میں کئی ممالک کے شہریوں نے شرکت کی تھی۔ اس دوران واکنگ اسٹک کے ساتھ دوڑ میں شامل ننھے حمد شبانہ نے ہرخاص وعام کی توجہ حاصل کی تھی۔

سعودی عرب کے وزیرکھیل برائے اطفال کی طرف سے ننھے حمد کے جذبے کو سراہتے ہوئےاسے قابل فخر ’ہیرو‘ قرار دیا۔معذوری کی وجہ سے واکنگ اسٹک کے سہارے چلنے والے بچے کے اس کی معذوری نے اپنا خواب پورا کرنے سے نہیں روکا۔

سعودی وزیر کھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل نے “ایکس” پلیٹ فارم پر بچے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے اس پر بصرہ کیا “ننھے ہیرو ہمیں تم پر فخر ہے‘‘۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت کھیل نےبچے کی تصویر شائع کی جس کے ساتھ “کبھی نہ ختم ہونے والا جذبہ اور چیلنج، ریاض میراتھن میں حمد کی مسلسل تیسری بارشرکت‘‘۔ کے الفاظ کے ساتھ اسے خراج تحسین پیش کیا گیا۔

حمد الشبانہ کی والدہ کے ساتھ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے بیٹے کو سپورٹس فار آل فیڈریشن کے صدر شہزادہ خالد بن الولید بن طلال کے اعزاز سے نوازنے کے بعد اسپورٹس فار آل فیڈریشن کا سفیر منتخب کیا گیا۔ انہوں نے انہیں اسپورٹس فار آل فیڈریشن کا سفیر منتخب کرنے اور اعزاز سے نواز کر مکمل تعاون فراہم کیا۔ میراتھن کا اصل ہیرو حمد الشبانہ ہے"۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اپنے اس اعزاز کو اس نے میرا اعزاز قرار دیا اور کہا کہ"آپ کی عزت ہمارے لیے اعزاز ہے"۔

میراتھن کا نقطہ آغاز

حمد کی والدہ نے بتایا کہ دوڑنے اور میراتھن کی دنیا میں داخل ہونے میں حمد کی دلچسپی کا آغاز کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد ہوا۔ اس نے اپنے اسکول میں پڑھنا شروع کیا تو ساتھ ہی اس نے دوڑ کی مشق شروع کی۔ مگر اسکول کا عملہ حما کے گرنے کے ڈر سے اسے دوڑنے سے منع کرتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ اسے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کا حق ہے اور میں نے اسے پرسکون ہونے پر آمادہ کیا۔ میں نے اسے دوڑنے کے لیے موزوں جگہوں کی موجودگی کے بارے میں بتایا۔ اس کا جواب تھا کہ میں آپ کوچیلنج کرتا ہوں۔ میں اس کی دوڑنے کی خواہش دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اسی شوق اور دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ہم نے اس کا 22ویں میراتھن کے لیےاندراج کرایا۔

حمد حصہ لینے اور تمغہ حاصل کرنے کے لیے پرجوش تھا۔ وہ میراتھن میں شرکت سے اپنا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ وہ پوچھنے لگا کہ میرا تمغہ کہاں ہے؟ اسی لمحے شہزادہ خالد بن الولید کے دفتر کے ڈائریکٹر آئے اوران سے کہا کہ آپ کا تمغہ شہزادہ خالد کے پاس ہے۔ انہیں ایک خاص اعزازملا ہے جس کا بہت اثر ہوا۔ ان کی خود اعتمادی کو تقویت ملی۔ یہ اعزاز حمد کے لیے آگے بڑھنے کا نقطہ آغاز ہے۔

کم سن ہیرو حمد شبانہ کو درپیش اہم ترین مشکلات کے بارے میں اس کی والدہ نے کہا کہ حماد کو طویل عرصے تک جسمانی تھراپی کی ضرورت تھی اور انہیں جسمانی تھراپی کی اہمیت کے حوالے سے حوصلہ افزائی اور یقین دہانی کرائی گئی۔ وہ مشکلات کو چیلنج کرنے کی خواہش اور ایتھلیٹکس اور ان کی مشق سے بھی محبت کرتا ہے۔ ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی وزارت کھیل کی طرف سے حمد کی حوصلہ افزائی کے لیے بے حد شکر گذار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں