بحیرہ احمر میں فوجی کشیدگی نے یمن میں امن مساعی کو سبوتاژ کردیا: یو این ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ سے متعلق علاقائی کشیدگی میں اضافہ اور خاص طور پر بحیرہ احمر میں فوجی کشیدگی یمن میں امن کی کوششوں کی رفتار میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔

گرنڈبرگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بدھ کے روز اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ "حال ہی میں ہم ثالثی کی کوششوں میں ٹھوس پیش رفت کر رہے تھے۔ تقریباً دو سال تک محاذوں پر نسبتاً سکون کا دور رہا اور اہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی کی حمایت میں مملکت سعودی عرب اور سلطنت عمان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ "امن کے عمل کو وسیع تر علاقائی حرکیات سے الگ تھلگ کرنے کی میری کوششوں کے باوجود حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یمن میں ثالثی کی کوششوں کو جو کچھ ہو رہا ہے اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ علاقائی سطح پر جو کچھ ہوتا ہے وہ یمن پر اثر انداز ہوتا ہے اور یمن میں جو کچھ ہوتا ہے وہ خطے کو متاثر کر سکتا ہے"۔

انہوں نےمزید کہا کہ"جبکہ بحیرہ احمر پر توجہ کا مرکز ہے میں یمن کے اندر تشویشناک پیش رفت کی طرف بھی آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جھڑپوں، متحرک ہونے اور انسانی ہلاکتوں کی اطلاعات کے ساتھ کئی محاذوں پر تشویش کے اسباب بڑھ رہے ہیں۔ شبوہ، الجوف، مآرب، صعدہ اور تعز کے علاقوں میں کیشیدگی بڑھ رہی ہے۔

گرنڈبرگ نے زور دے کر کہا کہ یمنی جماعتوں کو اس حساس مرحلے پر عوامی اشتعال انگیزی کو روکنا چاہیے اور یمن کے اندر فوجی مواقع سے فائدہ اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یمن میں کشیدگی ایک انتخاب ہے اور یہ ایک بہت مہنگا انتخاب ہے جس کی یمنی عوام کو مزید جانوں اور معیشت کے نقصانات کے ساتھ برداشت کرنا پڑےگا۔ فریقین کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے خطرناک نتیجہ نکلے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کیونکہ یمن ایک وسیع تر علاقائی کہانی کے حاشیہ میں صرف ایک معمولی بات نہیں ہے۔ اس لیے متعلقہ فریقوں کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں