اسرائیل رمضان المبارک کےدوران مسجد اقصیٰ میں عبادت گزارمسلمانوں کی تعداد کومحدودکرےگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اشتعال کے مقام پر غزہ جنگ کے خلاف احتجاج ہو سکتا ہے، پولیس وزیر نے منگل کو اس خدشے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل آئندہ مقدس ماہِ رمضان کے دوران یروشلم کی مسجدِ اقصیٰ میں نماز میں شرکت کرنے والے مسلمان شہریوں کی تعداد کو محدود کر دے گا۔

اسلام کے مقدس ترین مزارات میں سے ایک الاقصیٰ جو مشرقی یروشلم کا حصہ اور فلسطینی ریاست کی امیدوں کا مرکز ہے، اس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس جگہ کو یہودی اپنے دو قدیم مندروں کے نشان کے طور پر بھی مانتے ہیں۔

رسائی کے بارے میں قوانین اکثر تنازعات کا باعث رہے ہیں بشمول مسلمانوں کے لیے جو اسرائیل کی آبادی کا 18 فیصد ہیں، بالخصوص رمضان کے دوران جو اس سال 10 مارچ کے قریب شروع ہوتا ہے۔

اسرائیل نے ماضی میں پابندیاں عائد کی ہیں - زیادہ تر یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے کے نوجوان فلسطینیوں پر۔ غزہ کی جنگ کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے تو اشتعال انگیزی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے وزیر اتامر بن گویر نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران زیادہ تر مسلمان شہریوں کو نمازِ جمعہ سے روکنے کی ان کی کوشش کو وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مسترد کر دیا۔ پھر بھی انہوں نے کہا کہ 40,000 سے 50,000 کی حد لگائی جائے گی اور 120,000 سے 150,000 تک داخلہ لینے والے اہلکاروں کے خلاف کامیابی سے بحث کی۔

عرب رہنماؤں کی پابندی کی مذمت

انہوں نے منگل کے روز آرمی ریڈیو کو بتایا، "میرے مؤقف کو اصولی طور پر ان کے خلاف قبول کر لیا گیا (جن کا خیال تھا کہ) اسرائیلی عربوں کے ایک پورے گشت کی اجازت ہونی چاہیے۔"

اس اقدام کی عرب رہنماؤں بشمول حزبِ اختلاف کے قانون ساز احمد تبی نے مذمت کی جنہوں نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کا بین گویر ایک "آتش گیر شخص ہے لیکن اس کے اوپر کوئی ایسا ہے جو ذمہ دار ہے اور اسے پیٹرول کا ایک جیری کین دے رہا ہے۔"

بین گویر نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا کہ نیتن یاہو نے پولیس کو الاقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے اور کسی بھی پرچم یا نشان کو ہٹانے کی ان کی تجویز کو قبول نہیں کیا جو اسرائیل کے خلاف غزہ میں لڑنے والے فلسطینی گروپ حماس کی حمایت میں لگایا گیا ہو۔

غزہ میں یرغمالیوں کی حالتِ زار کا حوالہ دیتے ہوئے بین گویر نے دلیل دی کہ جس شہر کو اسرائیل اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے جسے بیرونِ ملک وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا جاتا، وہاں حماس سے یکجہتی کے کسی مظاہرے کی اجازت دینا "شکست کی تصویر" ہو گا۔

جب سے حماس کے سات اکتوبر کو سرحد پار سے قتل و غارت گری غزہ جنگ کی وجہ بنی ہے، اسرائیل نے فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

اسرائیل کے کئی عرب شہری فلسطینیوں کے طور پر شناخت رکھتے ہیں اور 2021 کی آخری غزہ جنگ کے دوران کچھ نے فساد کیا تھا۔ موجدہ جنگ نے ایسی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں دیکھی۔ بین گویر نے اشتعال انگیزی کے لیے اپنی "صفر رواداری" پالیسی کا حوالہ دیا جس کے بارے میں ناقدین کہتے ہیں کہ عرب شہریوں کی ضرورت سے زیادہ نگرانی کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں