اسرائیلی فورسز نے منگل کے روز ایک بار پھر اس وقت غزہ میں شدید بمباری کی ہے۔ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ کے لیے بحث مباثے جاری تھے۔ کہ غزہ میں کس طرح جنگ بندی کر کے فلسطینیوں کو مزید ہلاکتوں اور تباہی سے بچایا جاسکے۔
اقوام متحدہ نے اسرائیلی محاصرے میں غزہ میں انسانی صورتحال پر خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی قلت زدہ بچوں کی اموات کے 'دھماکے' جیسی صورت حال بننے کا خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے مرتب کردہ جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے تقریباً ساڑھے چار مہینوں کی مسلسل اسرئیلی جنگ کے باعث نے فلسطینی سرزمیں کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً پوری آبادی بے گھری اور نقل مکانی کے علاوہ بھوک اور پیاس سے مرنے کے لیے بے یارو مدد گار پڑی ہے۔ عالمی طاقتیں اب تک اس بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں ناکام ہیں۔
کی کوشش کر رہی ہیں، جس میں منگل کے بعد اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کو ایک بار پھر امریکی ویٹو کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ادھر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران کہا گیا ہے کہ غزہ میں جاری اس جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفہ ہونا چاہیے۔ صرف ہنگری نے جنگ جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔
-
اسرائیلی حملے نے غزہ کو موت کی وادی بنا دیا ہے: ہالینڈ میں سعودی سفیر
ہالینڈ میں متعین سعودی عرب کے سفیر زیاد بن معاشی العطیہ کا کہنا ہے ’’کہ فلسطینی ...
بين الاقوامى -
اسرائیل : شمالی غزہ سے آبادی کے ایک بار پھر انخلاء کی کوشش
فلسطینی جہاں پہلے ہی بھوکوں مر رہے ہیں
مشرق وسطی -
ڈبلیو ایچ او کی طرف سے غزہ کے ناصر ہسپتال سے بچوں سمیت 32 حساس مریضوں کا انخلاء
عالمی ادارۂ صحت نے منگل کو کہا کہ اس نے غزہ کے ناصر ہسپتال سے انخلاء کا دوسرا مشن ...
مشرق وسطی