فلسطین اسرائیل تنازع

یمن پر امریکی-برطانوی حملوں سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے اتوار کے روز یمن پر امریکہ اور برطانیہ کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں "تناؤ اور بحران میں اضافہ" چاہتے ہیں۔

ہفتے کے روز امریکی اور برطانوی افواج نے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی پر ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے حملوں کی لہر کے جواب میں یمن میں حوثی باغیوں کے 18 ٹھکانوں پر تازہ حملے کیے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ایک بیان میں کہا، "ایسے حملوں سے امریکہ اور برطانیہ خطے میں کشیدگی اور بحران بڑھانا اور جنگ اور عدم استحکام کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔"

کنعانی نے مزید کہا، "یقیناً اس قسم کی ظالمانہ اور جارحانہ فوجی کارروائی سے خطے میں عدم تحفظ اور عدم استحکام بڑھانے کے علاوہ ان جارح ممالک کو کچھ حاصل نہ ہو گا۔"

انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی مہلک مہم کو روکنے کے لیے "فوری اور مؤثر کارروائی" کرنے میں ناکامی پر امریکہ اور برطانیہ کی مزید مذمت کی۔

حوثی کہتے ہیں کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر ان کے حملے جنگ سے تباہ حال غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہیں۔

ایران حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے علاقائی کشیدگی بڑھی ہے اور لبنان، عراق، شام اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے حملوں کے بعد پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن نے کہا کہ امریکہ "دنیا کی ایک اہم ترین آبی گذرگاہ میں انسانی جانوں اور تجارت کی آزادانہ روانی کے دفاع کے لیے ضرورت کے مطابق کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کرے گا"۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے کہا کہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ میں "جارحیت بند نہ ہو جائے"۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلے کہا ہے کہ وہ خطے میں "مزاحمتی گروپوں" کی حمایت کو "فرض" سمجھتا ہے لیکن اصرار کرتا ہے کہ وہ گروپ فیصلے اور عمل میں "آزاد" ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں