حماس مذاکرات میں لچک دکھانے کے باوجود لڑنے کو بھی تیار ہے: اسماعیل ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے اسرائیل کے ساتھ ثالثوں کے توسط سے جاری مذاکرات کے اس اہم مرحلے پر کہا ہے کہ حماس مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے لچک کا مظاہرہ کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ اسماعیل ھنیہ نے اس امر کا اظہار بدھ کے روز ٹی وی پر اپنی ایک تقریر کے دوران کیا ہے۔

اپنی اس تقریر کے دوران انہوں نے یروشلم اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یکم رمضان المبارک کو نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصیٰ کی طرف مارچ کریں۔ رمضان المبارک کے دوران حماس کی مسجد اقصیٰ میں ادائیگی نماز کے کیے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے رجحان ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز اسرائیل کی طرف سے کہا گیا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران یروشلم کے لوگوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت تو دے گا مگر سیکیورٹی کے ایشوز کی وجہ سے یہ اجازت بہت محدود تعداد میں لوگوں کو دی جائے گی۔امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی پیر ہی کے روز امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کا فیصلہ اگلے پیر کے روز تک ہو جائے گا۔

حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران علاقے میں اپنے حامی گروپوں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور عراق میں ایران کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کریں۔

ھنیہ نے کہا یہ عرب اور اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں کے خلاف بھوک کا ہتھیار استعمال کرنے کی سازش کا توڑ کرنے کے لیے آگے بڑھ کر پہل کریں۔ کیونکہ غزہ کے لوگوں تک خوراک نہ پہنچنے دینا اسرائیل کی سوچی سمجھی کوشش اور حکمت عملی نظر آتی ہے۔

واضح رہے اسرائیل کہتا ہے کہ حماس کا محاصرہ جاری رکھنا حماس کو تباہ کرنے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ جسے وہ سات اکتوبر کے بعد سے اپنے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں