مشرق وسطیٰ

اسرائیل: غزہ میں بیکریوں پر بمباری کرکے شہریوں سے آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی غزہ پر تقریباً پانچ ماہ سے جاری بمباری کے نتیجے میں جہاں ہر دوسری چیز کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا گیا وہیں غزہ میں موجود بیکریوں کو بھی چن چن کر بمباری سے تباہ کیا گیا۔ بیکریوں کی یہ تباہی تباہ شدہ غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے لیے نوالے کے حصول کی آخری کوشش کو بھی ناکام بنانے کی حکمت عملی کا حصہ تھی، اسرائیل کی فوج اس میں کامیاب رہی۔

کامل اجور کی تباہ شدہ ملبہ کی شکل اختیار کر چکی بیکری، بمباری سے جس کے لوہے کا سٹرکچر بھی چرڑ مڑر ہو چکا ہے اس بات کی چغلی کھا رہی ہے کہ اسرائیلی بمباری نے غزہ میں بھوک اور قحط کا راج لانے کے لیے کس حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں تک کہ فلسطینی اس قحط زدگی میں کیکٹس کے کچے پتے بھی کھانے پر مجبور ہیں۔

اس صورت حال میں غزہ میں چھوٹی عمر کا ہر چھٹا بچہ خوراک سے محروم ہے ۔ بچوں کو ماں باپ گھوڑوں کا گوشت تک کھلا کر ان کا پیٹ بھرنے پر مجبور ہیں۔ آٹے کی دستیابی سرے سے نہہیں ، کئی جگہوں پر پرندوں کے دانے کو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ نیز یہ کہ درختوں کے پتے اور حتٰی کہ کیکٹس کے کچے پتے اور جنگلی پھل بھی مل جائیں تو بھوک مٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایسے میں بیکریوں کی بمباری کر کے تباہی مچانے سے قحط پیدا کرنے کی اسرائیلی حکمت عملی نتیجہ خیز ثابت ہوئی، کمال اجور کہتے ہیں 'ہمارے پاس پانچ بیکریاں تھیں۔ وہ انہی میں سے ایک کے ملبے کے ساتھ کھڑے بات کر رہے تھے، یہ بیکری بمباری سے اڑا دی گئی جبکہ باقی بیکریوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ان میں سے تین بیکریوں کو اب کسی حد تک چالو کر لیا گیا گیا ہے۔ '

کمال اجوا نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو ایک ویڈیو دکھائی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیکری کے سب آلات اور ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ دھات سے بنے چولہے بھی کباڑ بن چکے ہیں ۔ لیکن اچھی بات ہے کہ اس وقت جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں حماس جو تجاویز رکھی ہیں ان میں ان تباہ کر دی گئی بیکریوں کی بحالی کے ضروری سامان کی درآمد اور ایندھن کی فراہمی بھی شامل ہے۔

باسل خیرالدین کا کہنا ہے 'یہ اہم بات ہے کہ جنگ بندی کے دوران بیکریوں کے دوبارہ فعال کرنے کی صورت پیدا ہو۔ تاہم اپنے بچوں کے لیے کچھ کھانے کو حاصل کر سکیں۔ ہمارے گھر والوں اور ہمارے پیاروں کو کھانے کے لیے کچھ مل سکے۔'

خیرالدین کہہ رہے تھے ایک طرف بیکریاں تباہ کر دی گئیں اور دوسری طرف ہمارے پاس ایندھن دستیاب نہیں تھا۔ اس لیے اگر کچھ پکا سکے تو لکڑی جلا کر پکایا گیا۔ یقیناً یہ لکڑیاں ہمارے ہی تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے نکلی ہوں گی۔'

حتیٰ کہ تھوڑا سا آٹا تلاش کرنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر کہیں سے آٹا مل بھی جائے تو اس آتے کو خریدنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ فلسطینی جانوروں اور پرندوں کی خوراک سے روٹی بنانے پر مجبور ہیں۔

جبالیہ میں اسرائیلی بمباری سے کسی طرح محفوظ رہ جانے والے مکان کے پاس رہنے والے والے عودیہ خاندان نے بھوک مٹانے کے لیے کانٹے دار کیکٹس کے پتے کھانے شروع کر دیے ہیں۔

مروان الاوادے بچوں کے لیے کیکٹس کے پتے کاٹ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے 'ہم قحط میں جی رہے ہیں اور ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے دوران ان کا 30 کلو وزن کم ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں