اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی نیتن یاھو کی بہت بڑی غلطی ہو گی: بین گویر
ایک طرف غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ بے صبری سے کسی بھی جنگ بندی کا انتظار کر رہے ہیں، دوسری طرف اسرائیلی سکیورٹی کے وزیر ایتمار بین گویر نے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’معاریف‘ کے مطابق وزیر بین گویر جو اپنے متنازع موقف کے لیے مشہور ہیں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ معاہدے کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کو رہا کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہے جس کا ارتکاب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہوکرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اگر فلسطینی قیدیوں کو ماہ رمضان سے پہلے رہا کیا جاتا ہے تو یہ شرم کی بات ہوگی‘‘۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اگر فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا مقصد جیلوں میں بھیڑ دور کرنا ہے تو پہلی فرصت میں چوری اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے یہودیوں کو ترجیح دی جائے گی نہ کہ فلسطینی دہشت گردوں کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پربھی الزام عائد کیا کہ دیا کہ وہ اپنے دعوے کے مطابق فلسطینیوں کو فتح کی تصویر دے کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔
حماس کے جواب کا انتظار
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے کہا ہے اسرائیل چھ ہفتے کی جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کی حمایت کرتا ہے اور وہ اب حماس کی قیادت کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
دریں اثناء العربیہ/الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حماس اس منصوبے کا حتمی جواب آنے والے گھنٹوں میں ثالثوں کو دے گی۔