اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق ادارے 'اونروا' کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سے جن فلسطینیوں کو گرفتار کیا تھا، وہ رہا ہو کر واپس آرہے ہیں۔ تاہم وہ مکمل صدمہ کی حالت میں ہیں۔ ان کی رہائی کے موقع پر بتایا گیا ہے کہ انہیں اس دوران اسرائیلی فوج نے سخت تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
'اونروا' کی رپورٹ کے مطابق 'اونروا' سربراہ فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ 'ان سب فلسطینیوں کو وسیع پیمانے پر تشدد کر کے ، دھمکیاں دے کر انہیں بے لباس کر کے بےتوقیر کیا گیا۔ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا۔ حتیٰ کہ ان کو کتوں اور اسرائیلی فوجیوں کے ذریعے خوفزدہ کیا جاتا رہا۔ جس سے ان کی حالت انتہائی خراب ہوتی رہی۔
'اونروا' کی طرف سے یہ تبصرہ نیویارک ٹائمز میں چھپی ہوئی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان زیرحراست فلسطینیوں کو کرم شالوم راہداری کے راستے واپس بھیجا جائے گا۔
لازارینی نے کہا ہم نے ان میں سے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ واپس آرہے ہیں۔ کچھ دو ہفتوں کی حراست کے بعد اور کچھ دو ماہ کی حراست کے بعد۔ مگر ان میں سے اکثریت مکمل صدمے کی حالت میں ہے۔ جس سے وہ مسلسل گزرے ہیں۔
'اونروا' نے اسرائیلی قید میں رہنے والے ان فلسطینیوں کے بتائے ہوئے واقعات کی روشنی میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ کو انسانی حقوق کی تنطیموں کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔
-
قاہرہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت، غزہ میں جنگ بندی کا اعلان 48 گھنٹے میں متوقع
مصری سرکاری قاہرہ نیوز ٹی وی نے پیر کو اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک ...
مشرق وسطی -
غزہ کی صورتحال خطے کے لیے بارودی دھماکے کا باعث بن سکتی ہے : وولکر ترک
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف وولکر ترک نے کہا ہے 'غزہ میں جاری اسرائیل حماس ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج نے غزہ میں آٹے کے لیےجمع فاقہ کش لوگوں پرایک بار پھر گولیاں برسادیں
اسرائیلی فوج کی طرف سے گذشتہ ہفتےغزہ میں نابلسی گول چکرمیں امداد اور آٹے کے لیے ...
مشرق وسطی