غزہ جنگ بندی کےحوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہیں: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں عارضی جنگ بندی اور کئی مہینوں میں پہلی بار قیدیوں کی رہائی کے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر بات چیت شروع ہونے کے بعد صورت حال بدستور غیر یقینی ہے۔

محتاط امید

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک غزہ جنگ بندی کے حوالے سے جاری مذاکرات کے بارے میں "محتاط طور پر" پر امید ہے۔ مذاکرات میں کسی پیش رفت کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

ترجمان ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے گا لیکن محتاط امید موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کامیابی کا اعلان نہیں کر سکتے لیکن ہمیں امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا فریم ورک جس میں خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے جاری رہتا ہے۔ بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال بات چیت کے لیے کوئی ٹائم فریم طے کرنا ممکن نہیں ہے اور یہ معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کے تبادلے سے متعلق ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ اجلاسوں میں مذاکرات ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ "مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور معمول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ مذاکرات میں شریک فریق سخت محنت کر رہے ہیں"۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے متنبہ کیا کہ جنوبی غزہ میں رفح پر کوئی بھی حملہ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکان کو منفی طور پر متاثر کرے گا۔ اس طرح کے حملے سے صورتحال مزید خراب ہوجائے گی اور رفح میں کسی بھی قسم کی کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی قسم کی جنگی حکمت عملی سے جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

مذاکرات جاری

قابل ذکر ہے کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے کل پیر کو دوحہ میں ثالثوں کے ساتھ بات چیت کی اور آج اسرائیل واپس لوٹ گئے۔

اسرائیل اور حماس نے مہینوں میں پہلی بار غزہ میں عارضی جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر بات چیت شروع کی۔

اگرچہ حکام نے واضح کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں تاہم حماس کے ردعمل نے گٓذشتہ ہفتے کے مذاکرات کی نسبت بہتر پیش رفت کی ہے۔

امریکہ کی طرف سے پیش کردہ فریم ورک یا تجویز میں 400 فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے، جن میں 15 اسرائیلیوں کو قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے بھی شامل ہیں جب کہ حماس ان کے بدلے میں چالیس اسرائیلیوں کو رہا کرنے کی تجویز دے رہی ہے۔

دریں اثنا گذشتہ جمعرات کو جمع کرائے گئے جواب میں حماس نے 950 قیدیوں کی رہائی کی شرط رکھی، جن میں 150 عمر قید کی سزا کاٹے والے فلسطینی بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق حماس نے ان قیدیوں کے ناموں کا انتخاب کرنے کو کہا جنہیں رہا کیا جائے گا۔ان میں عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کو اسرائیل نے رہا کرنے سے انکار کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں