حماس کے ایک سینئیر ذمہ دار اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس کی تجاویز کا اسرائیل نے ثالثوں کے توسط سے منفی جواب دیا ہے۔ حماس کے ذمہ دار کے مطابق ہمارے مذاکرات کرنے والے ثالث برادران نے منگل کی رات ہمیں اطلاع دی کہ اسرائیل کا ' ریسپانس' منفی دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق یہ ایک عمومی نوعیت کا منفی رد عمل تھا ، جبکہ حماس کے مطالبات کے بارے میں اور تجاویز کے حوالے سے جواب ہی نہیں دیا ہے۔ گویا یہ اس چیز سے بھی اسرائیل کا پیچھے ہٹ جانا ہے۔ اسامہ حمدان بیروت میں نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اسامہ حمدان نے کہا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ دار ہے۔ اگر یہ پیچھے نہ ہٹتے تو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی بھی ممکن ہو جانا تھی۔ یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدی بھی رہا ہو جاتے اور غزہ میں ساتھ جنگ بندی بھی ممکن ہو جاتی۔
واضح رہے جنگ بندی کے لیے دوبارہ مذاکرات کی بحالی اسی ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے ہوئی تھی۔ لیکن اس سے قبل کئی ہفتوں پر محیط مذاکراتی عمل ابھی تک ناکام ہے۔