اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو ’کذاب‘ قرار دیا، نیتن یاھو پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائرلپید نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کی حکومت کو "ملکی تاریخ کی سب سے جھوٹی اور خوفناک حکومت" قرار دیا۔ اسرائیلی اپوزیشن کے رہ نما یائر لپید وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلینجزپر ان کی ناکامی کی طرف اشارہ کررہے تھے۔

لپید کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنی تاریخ کی سب سے خوفناک حکومت کا سامنا ہے۔ انہوں نے بھرتی کے قانون کو متعارف کرانے کی تیاریوں پر سخت تنقید کی جو مذہبی یہودیوں کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔

"خون خون میں فرق"

انہوں نے اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں رواں ہفتے پیش کیے جانے والے بل سے فرار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ میں حکومت کا یہ بھیانک چہرہ سامنے آیا ہے۔ حکومت مذہبی یہودیوں کو فوج میں بھرتی سے استثنیٰ دینے کے بعد دروغ گوئی ذمہ داری سے فرار اور خون خون میں فرق کرنا ہے۔

لپید نے مزید کہا کہ "چھ ماہ کی تکلیف دہ جنگ کے بعد اسرائیلی فوج فوجیوں کی کمی کا شکار ہے اور حکومت دسیوں ہزار جوانوں کو بھرتی سے چھوٹ دے رہی ہے".

انہوں نے کہا کہ اگر یہ استثنیٰ منظور ہو گیا تو شرمناک ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی اس حکومت میں بیٹھا ہے وہ اس شرمندگی میں شریک ہے۔

نیا قانون

یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ متواتر حکومتوں کی طرف سے مذہبی یہودیوں کو یہودی مذہبی اسکولوں میں تورات کی تعلیم کے بدلے فوجی ملازمت سے استثنیٰ دینے کا جاری کردہ حکم اس ماہ کے آخر میں ختم ہو جائے گا، جس کے لیے کنیسٹ کو ایک نئے قانون کی منظوری کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ نے پہلے حکومتی حکم نامے کو ایک اور مدت کے لیے بڑھانے سے انکار کر دیا تھا اور نیتن یاہو کی حکومت کو اس کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع مفاہمت تک پہنچنے کے لیے وقت دیا تھا۔

تاہم اسرائیل میں سیفاردک یہودیوں کے چیف ربی یتزاک یوزف کی قیادت میں فوجی خدمات سے انکار کی منظوری بہت سی مذہبی یہودی آوازوں کے حالیہ ابھرنے اور ملک میں بڑے پیمانے پر تنازعہ کو جنم دیا۔

خاص طور پر انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر مذہبی لوگوں کو فوج میں ملازمت کرنے پر مجبور کیا گیا تو وہ بحران سے دوچار نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی کوشش میں مستقل طور پر ملک چھوڑ دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں