واشنگٹن کے انتباہ اور ناراضی کے باوجود اسرائیل رفح پر حملے کے لیے کیوں مصر ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل جنوبی غزہ کی پٹی کے شہررفح پر متوقع حملے کے حوالے سے تمام بین الاقوامی بالخصوص امریکی تنقید کے باوجود اپنے اعلان پر قائم ہے۔

اسرائیلی قیادت اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو غزہ میں جنگ اور رفح حملے کی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک سخت تنقید کا سامنا ہے۔

خاص طور پر جب سے پٹی کے دو سب سے بڑے شہروں غزہ سٹی اور خان یونس پر قبضے کے بعد اسرائیلی افواج نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے یا تو زمینی یا جاری مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت حاصل نہیں کی۔

تو نیتن یاہو کا رفح پر حملے پر اصرار کیوں؟

بہت سے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل کا پختہ عزم ہے کہ حماس برسوں سے رفح کراسنگ اور غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے، حالانکہ قاہرہ نے بارہا اس کی تردید کی ہے۔

اسرائیل کا یہ بھی ماننا ہے کہ رفح میں سرنگوں کے نیچے حماس کے 4 یونٹ چھپے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس شہر کو کنٹرول کرنا تل ابیب کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس تناظر میں یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ایک فوجی مورخ ڈینی اورباچ نے کہا کہ ’’اگر اسرائیل حماس جیسی تحریکوں کو ناکام بنانا چاہتا ہے تو رفح کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے‘‘۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس نے مزید کہا کہ "حماس کی کارروائیاں تبھی تیز ہو سکتی ہیں جب اس کے پاس محفوظ پناہ گاہیں ہوں"۔

نیتن یاہو کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یاکوف امیڈور نے کہا کہ "امریکی رہنما یہ نہیں سمجھتے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی عوام فلسطینی تحریک کے خاتمے کی بھرپور حمایت کرنے کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔ کیونکہ حماس ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ سے سلامتی کو خطرہ چاہے۔ اسے ختم کرنا ہے چاہے اسرائیلی یا فلسطینیوں کواپنی جانوں کا نذرانہ کیوں نہ پیش کرنا پڑے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آخر میں ہمیں وہاں جا کر رفح میں حماس کی فوجی صلاحیت کو تباہ کرنا ہوگا"۔

رفح پر حملہ اسرائیل کی فتح کی ضمانت نہیں ہوسکتا

دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ "رفح میں اسرائیل کے لیے مزید حکمت عملی سے فتح حاصل کرنا، جیسا کہ وہاں حماس کی اکائیوں کو تباہ کرنا، ضروری طور پر اس بات کی ضمانت نہیں دے گا کہ حماس اپنے گروہوں کو دوبارہ تشکیل نہیں دے گی"۔

لندن میں قائم تھنک ٹینک چتھم ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے محقق صنم وکیل نے کہا کہ حماس کا قلع قمع کرنا اسرائیل کو فتح کا اعلان کرنے کا فوری موقع فراہم کرتا ہے۔

لیکن انہوں نے مزید کہاکہ "اسرائیل- فلسطین تنازعہ کے لیے وسیع تر سیاسی حکمت عملی کی عدم موجودگی میں حماس دوبارہ گھاس کی طرح بڑھ پھیل سکتی ہے"۔

دو سینیر اسرائیلی حکام رون ڈرمر جو نیتن یاہو کے قریبی ہیں اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی آنے والے دنوں میں ایک وفد کی قیادت میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ وہ ممکنہ طور پر امریکی قیادت اور صدر کے سامنے رفح پر حملے سے قبل سول آبادی کی محفوظ مقام پر منتقلی کے حوالے سے اپنا منصوبہ پیش کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان رفح کے معاملے پر غیر معمولی کشیدگی دیکھی گئی، جس میں تقریباً 14 لاکھ گھر فلسطینیوں کو پناہ دی گئی ہے۔

پرہجوم فلسطینی شہر پر حملے کے امکان نے درجنوں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں