فلسطین اسرائیل تنازع

اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت لینے کے لیے فلسطینی اتھارٹی اپریل میں ووٹنگ کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل اسی ماہ فلسطینی اتھارٹی کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی منظوری کے لیے ووٹنگ کرے۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کے اقوام متحدہ میں نمائندے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ ان کوششوں کو رکوا سکتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اقوام متحدہ میں مستقل مبصر کے طور پر نمائندگی کرنے والے ریاض منصور اپریل میں مکمل رکنیت کے حصول کے فلسطینی منصوبے کو ایسے وقت میں سامنے لائے ہیں۔ جب اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے چھ ماہ مکمل ہو رہے ہیں اور اس جنگ میں 32 ہزار سات سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیز اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔

ریاض منصور نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز ' کو بتایا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ سلامتی کونسل 18 اپریل کو ہونے والے وزارتی اجلاس میں اس بارے میں فیصلہ کرے۔ خیال رہے یہ وزارتی اجلاس مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ہی ہونے جا رہا ہے۔تاہم ابھی اس میں ایسی کسی ووٹنگ کا فیصلہ نہیں کیا گیا جو فلسطینی اتھارٹی کو اقوام متحدہ کی مکمل ممبر شپ دینے کے حوالے سے ہو۔

فلسطینی اتھارٹی نے مکمل ممبر شپ کی درخواست 2011 میں پیش کی تھی لیکن یہ ابھی تک زیر التواء ہے۔ سلامتی کونسل نے پچھلے 15 نومبر تک اس بارے میں کبھی باقاعدہ بحث بھی نہیں کی ہے۔ اس پس منظر میں ریاض منصور نے کہا ' فلسطینی اتھارٹی کی کوشش یہ ہے کہ ' سلامتی کونسل اس پرانی درخواست پر اسی مہینے ووٹنگ کا اہتمام کرے اور فلسطینی اتھارٹی کو مکمل رکنیت کا حق دیا جائے۔'

واضح رہے غزہ میں جنگ بندی کے لیے عالمی رائے عامہ کے متٓحرک ہونے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کے دو ریاستی حل کے حق میں بھی حمایت بڑھ رہی ہے اور فلسطینیوں کی ایک آزاد ریاست کی بات کی جاری ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی منظوری سلامتی کونسل نے ووٹنگ کے ذریعے دینا ہے۔ اس سلسلے میں نو ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ نیز یہ کہ کوئی ملک اسے ویٹو نہ کرے۔ خدشہ ہے کہ امریکہ ویٹو کر سکتا ہے۔ ویٹو نہ ہونے کی صورت میں سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 ووٹوں میں سے دوتہائی ووٹوں کی حمایت بھی مکمل رکنیت کے لیے درکار ہوتی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اس ماہ کے دوران ممبر شپ کے حصول کی کوشش کے بارے میں اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے ابھی تک تبصرے کی درخواست کے باجود کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ البتہ 2011 میں سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے فلسطینی اتھارٹی کی اس درخواست پر کئی ہفتے کے لیے غور کیا تھا۔ اس وقت سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ فلسطین کے پاس سلامتی کونسل میں کافی حمایت موجود نہیں ہے۔

اس کے باوجود کہ فلسطینی اتھارٹی اس مکمل رکنیت کے لیے 2011 سے کوشاں ہے ۔ اقوام متحدہ نے اسے نان ممبر مبصر کی پوزیشن نومبر 2012 میں دے دی تھی۔ اب جبکہ غزہ میں چھ ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کا بہت خون بہا ہے اور مسئلہ فلسطین غیر معمولی طور پر سامنے آیا ہے فلسطینیوں کے حق میں حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران مبر شپ کی کوشش کامیاب ہونے کا امکان فلسطینی اتھارٹی چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں